رپورٹ کے مطابق پاکستان اس وقت خطے میں جاری کشیدہ صورتحال کے دوران ایک اہم سفارتی پل کے طور پر سامنے آ رہا ہے، جہاں اسلام آباد دونوں ممالک کے درمیان رابطوں کو بحال رکھنے اور مذاکراتی عمل کو دوبارہ فعال بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس عمل میں فوجی اور سفارتی سطح پر رابطہ کاری کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان طویل عرصے سے جاری کشیدگی، پابندیوں اور اعتماد کے شدید فقدان کے باعث مذاکراتی عمل مشکلات کا شکار ہے، تاہم ایسے نازک وقت میں پاکستان کی کوشش ہے کہ کسی بھی ممکنہ سفارتی پیش رفت کو مکمل طور پر ناکام ہونے سے بچایا جا سکے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کو اس پورے عمل میں ایک غیر روایتی مگر انتہائی اہم کردار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جہاں وہ دونوں فریقین کے درمیان پیغام رسانی اور اعتماد سازی کے عمل کو آگے بڑھانے میں معاونت کر رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: وزیرداخلہ محسن نقوی سے امریکی سفیر نیٹلی بیکر کی ملاقات، مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ پر تبادلہ خیال
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان کی سفارتی حکمت عملی کا مقصد خطے میں استحکام قائم رکھنا اور مزید کشیدگی سے بچاؤ ہے، کیونکہ کسی بھی بڑے تصادم کے اثرات نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سطح پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستان کی یہ کوششیں اگر کامیاب ہو جاتی ہیں تو نہ صرف خطے میں امن کے امکانات بہتر ہوں گے بلکہ پاکستان کا سفارتی کردار بھی مزید مضبوط ہوگا۔ تاہم صورتحال اب بھی حساس اور پیچیدہ قرار دی جا رہی ہے، جس میں کسی بھی وقت تبدیلی ممکن ہے۔







