ایرانی میڈیا کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف سے ملاقات کی، جس میں پاکستان اور ایران کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے، سیکیورٹی تعاون بڑھانے اور خطے میں استحکام کے لیے مشترکہ اقدامات پر گفتگو کی گئی۔
اس سے قبل فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے بھی ملاقات ہوئی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان جاری سفارتی رابطوں اور علاقائی امن کی کوششوں پر بات چیت کی گئی۔ ایرانی وزیر خارجہ نے پاکستان کی جانب سے مذاکراتی عمل کی میزبانی پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں امن اور استحکام کے لیے دونوں ممالک کا عزم مشترک اور مضبوط ہے۔
عاصم منیر، رییس کل ستاد ارتش پاکستان که به ایران سفر کرده، روز پنجشنبه با محمدباقر قالیباف، رییس مجلس دیدار کرد.
— ايران اينترنشنال (@IranIntl) April 16, 2026
پیشتر یک مقام ارشد ایرانی به رویترز گفته بود سفر عاصم منیر به تهران، به کاهش اختلافات با آمریکا در برخی حوزهها کمک کرده است.https://t.co/ir5Iutz7pW pic.twitter.com/P0GcuOU8DD
آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر کا یہ دورہ تہران امریکا اور ایران کے درمیان جاری سفارتی کوششوں اور ثالثی کے عمل کا حصہ ہے، جس میں پاکستان اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کے لیے متحرک ہے۔
اس دورے میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی بھی فیلڈ مارشل کے ہمراہ موجود ہیں، جبکہ اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔
دفاعی و سفارتی ماہرین کے مطابق پاکستان کا یہ کردار خطے میں اس کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے، جہاں اسلام آباد نہ صرف دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنا رہا ہے بلکہ عالمی اور علاقائی سطح پر امن کے قیام کے لیے بھی فعال کردار ادا کر رہا ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان، ایران اور دیگر اہم ممالک کے درمیان جاری رابطے مستقبل میں خطے کے امن و استحکام کے لیے اہم ثابت ہو سکتے ہیں، تاہم اس حوالے سے پیش رفت کا دارومدار آنے والے سفارتی اقدامات پر ہوگا۔







