آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق اس اہم دورے میں فیلڈ مارشل کے ہمراہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی بھی موجود تھے، جبکہ دورے کا مقصد دونوں برادر ممالک کے درمیان دفاعی، سفارتی اور سیکیورٹی تعاون کو مزید مضبوط بنانا تھا۔
دورۂ ایران کے دوران فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے خصوصی ملاقات کی، جس میں دوطرفہ تعلقات، سرحدی تعاون اور خطے میں درپیش چیلنجز پر تفصیل سے گفتگو ہوئی۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان مضبوط تعلقات خطے میں امن کے قیام کے لیے نہایت اہم ہیں۔
اس کے علاوہ فیلڈ مارشل نے ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر، وزیر خارجہ اور خاتم الانبیا ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر سے بھی الگ الگ ملاقاتیں کیں، جن میں علاقائی سیکیورٹی، سرحدی معاملات اور مشترکہ مفادات پر بات چیت کی گئی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ان ملاقاتوں میں خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاسی صورتحال اور خطے میں پائیدار امن و استحکام کے قیام کے لیے مشترکہ حکمت عملی پر غور کیا گیا۔ دونوں ممالک نے اس بات پر زور دیا کہ تنازعات کے حل کے لیے طاقت کے بجائے مکالمہ، سفارتکاری اور اعتماد سازی کے اقدامات کو فروغ دیا جانا چاہیے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اس موقع پر کہا کہ خطے کو درپیش پیچیدہ مسائل کا حل صرف مسلسل رابطوں، تحمل اور سنجیدہ سفارتی کوششوں کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے کشیدگی میں کمی اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔
مزید پڑھیں: انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں پاکستان، ترکیہ اور قطر کی اہم سہ فریقی ملاقات
انہوں نے پاکستان کی قیادت، بشمول صدر اور وزیر اعظم کی جانب سے ایرانی قیادت کے لیے نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار بھی کیا، جبکہ دونوں ممالک نے تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتوں کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق یہ دورہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور خوشحالی کے فروغ کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس دورے سے پاکستان اور ایران کے درمیان اعتماد میں مزید اضافہ ہوگا اور مستقبل میں تعاون کے نئے دروازے کھلیں گے۔







