عارف والا میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی کی بنیاد ہے اور حکومت کا عزم ہے کہ ہر بچے کو بلاامتیاز معیاری تعلیم فراہم کی جائے، سرکاری اسکولوں کے طلبہ کو احساسِ کمتری کا شکار ہونے کی ضرورت نہیں، بلکہ انہیں فخر ہونا چاہیے کہ وہ ایسے تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم ہیں جہاں حکومت جدید سہولتوں کی فراہمی کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔
مریم نواز نے بارشوں کے موسم کے تناظر میں والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کی حفاظت پر خصوصی توجہ دیں اور انہیں غیر محفوظ مقامات پر جانے سے روکیں، حالیہ افسوسناک واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ زیر تعمیر عمارت کی چھت گرنے سے معصوم بچوں کی جانوں کا ضیاع انتہائی دکھ کا باعث بنا، جبکہ کھلے مین ہولز، نالوں اور ریلوے ٹریکس کے قریب پیش آنے والے حادثات بھی شدید تشویش کا سبب ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے ضلعی انتظامیہ کو کھلے مین ہولز فوری بند کرنے کی ہدایات جاری کر رکھی ہیں، تاہم بعض عناصر رات کی تاریکی میں ان کے ڈھکن چوری کر لیتے ہیں، جس سے شہریوں خصوصاً بچوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ جاتی ہیں۔ وزیراعلیٰ نے متعلقہ اداروں کو ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی بھی ہدایت کی۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ صوبے کے 13 کروڑ عوام اور لاکھوں طلبہ کی ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے، اسی لیے حکومت تعلیم، صحت اور بچوں کے تحفظ کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کیے ہوئے ہے، طلبہ کی محفوظ آمدورفت کو یقینی بنانے کے لیے گرین الیکٹرک بسوں کا نیٹ ورک مزید وسعت دی جا رہی ہے تاکہ طلبہ آرام دہ اور محفوظ انداز میں تعلیمی اداروں تک پہنچ سکیں۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت سرکاری اسکولوں کی بہتری پر 40 ارب روپے خرچ کر رہی ہے، جن کے تحت نئے کلاس رومز کی تعمیر، معیاری فرنیچر، صاف پانی، بیت الخلا، پنکھوں، بجلی اور دیگر بنیادی سہولتوں کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے تاکہ تعلیمی ماحول کو بہتر بنایا جا سکے۔
مریم نواز نے اعلان کیا کہ طلبہ کی حوصلہ افزائی کے لیے ایک لاکھ لیپ ٹاپ تقسیم کیے جائیں گے، جبکہ ہونہار طلبہ کے لیے مزید 50 ہزار اسکالرشپس بھی دی جائیں گی تاکہ باصلاحیت نوجوان مالی مشکلات کے بغیر اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت سائنس، ٹیکنالوجی، ریاضی، کمپیوٹر اور آئی ٹی لیبز کے قیام پر خصوصی توجہ دے رہی ہے، جبکہ پنجاب کی تاریخ میں پہلی مرتبہ مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلیجنس) کی لیبز بھی قائم کی جا رہی ہیں تاکہ طلبہ مستقبل کی جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ ہو سکیں۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ مصنوعی ذہانت، مشین لرننگ، روبوٹکس اور جدید ڈیجیٹل مہارتیں سیکھیں کیونکہ آنے والا دور انہی علوم کا ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ نواز شریف اسکول آف ایمیننس میں داخلوں کے لیے غیرمعمولی دلچسپی سامنے آئی، جہاں محدود نشستوں کے مقابلے میں ہزاروں طلبہ نے ٹیسٹ دیا، ان اداروں میں مزدور، سرکاری ملازم اور دیگر مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے خاندانوں کے بچے ایک ساتھ تعلیم حاصل کر رہے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت میرٹ اور صلاحیت پر یقین رکھتی ہے، نہ کہ مالی حیثیت پر۔
مزید پڑھیں: اسحاق ڈار سے شنگھائی تعاون تنظیم کے سیکریٹری جنرل کی ملاقات، علاقائی تعاون کے فروغ پر اتفاق
انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب میں پہلی مرتبہ وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اپنا بیٹا بھی سرکاری اسکول میں زیر تعلیم ہے، جو سرکاری تعلیمی نظام پر حکومت کے اعتماد کا عملی اظہار ہے۔ مریم نواز نے اعلان کیا کہ موجودہ اصلاحات کے تسلسل میں جلد ہی صوبے بھر میں مزید 300 جدید سرکاری اسکول قائم کیے جائیں گے تاکہ ہر ضلع میں عالمی معیار کی تعلیمی سہولتیں فراہم کی جا سکیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت تعلیم کے شعبے میں جاری اصلاحات کو ہر صورت مکمل کرے گی تاکہ پنجاب کے بچوں کو جدید تعلیم، بہتر ماحول اور ترقی کے مساوی مواقع میسر آ سکیں، کیونکہ ایک مضبوط اور خوشحال پاکستان کی بنیاد معیاری تعلیم ہی ہے۔







