نجی اخبار ڈان نیوز کو پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید نے بتاتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ جاں بحق ہونے والوں کی مجموعی تعداد 73 ہو چکی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اب تک 23 متوفی افراد کی شناخت مکمل کی جا چکی ہے، جن میں سے 16 افراد کی شناخت ڈی این اے میچنگ کے ذریعے، چھ کی چہرے کے ذریعے، جب کہ ایک فرد کی شناخت اس کے قومی شناختی کارڈ  کی بنیاد پر کی گئی۔

ڈاکٹر سمعیہ سید کے مطابق تمام ڈی این اے ٹیسٹ کراچی یونیورسٹی میں قائم سندھ فرانزک ڈی این اے اور سیرولوجی لیب میں کیے جا رہے ہیں۔

یاد رہے کہ یہ مہلک آگ 17 جنوری کی شب گل پلازہ میں بھڑک اٹھی تھی، جسے مکمل طور پر بجھانے میں تقریباً دو دن لگے۔ اس افسوسناک واقعے میں اب تک کم از کم 73 قیمتی جانیں ضائع ہو چکی ہیں، جب کہ 1,100 سے زائد دکانیں مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہیں۔ واقعے کو ایک ہفتہ گزر جانے کے باوجود ملبے سے لاشوں کی باقیات نکالنے کا عمل جاری ہے۔

ریسکیو 1122 کے چیف آپریٹنگ آفیسر (سی او او) ڈاکٹر عابد جلال شیخ کا کہنا تھا  کہ سرچ آپریشن اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور امکان ہے کہ یہ اتوار کی رات تک مکمل کر لیا جائے گا۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ تہہ خانے کا تقریباً پانچ فیصد حصہ تاحال تلاش کیا جانا باقی ہے، جو ملبے کے نیچے دبا ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مجھے ہٹانے کے لیے تین آپشن ہیں، گورنر راج لگایا جائے، مجھے نااہل کیا جائے یا مجھے مار دیا جائے، سہیل آفریدی

ریسکیو 1122 کے سی او او کے مطابق سرچ آپریشن کو کچھ دیر کے لیے اس وقت روک دیا گیا تھا جب ضلعی انتظامیہ نے فرانزک ماہرین کے دورے کا اہتمام کیا، جنہوں نے جائے وقوعہ سے شواہد اور نمونے اکٹھے کیے۔ ماہرین کے احاطہ چھوڑنے کے بعد تلاشی کا عمل دوبارہ شروع کر دیا گیا۔

واضح رہے کہ 23 جنوری کو درج کی گئی واقعے کی پہلی اطلاعاتی رپورٹ (ایف آئی آر) میں کراچی پولیس نے کہا کہ آگ غفلت اور لاپرواہی کا نتیجہ تھی۔ یہ مقدمہ نامعلوم افراد کے خلاف درج کیا گیا، کیونکہ پولیس کی جانب سے ایف آئی آر میں کسی کو نامزد نہیں کیا گیا۔

دوسری جانب آج اتوار کی سہ پہر ایک ہی خاندان کے چار افراد کی نمازِ جنازہ دہلی کالونی کے عیدگاہ گراؤنڈ میں ادا کی گئی۔ یہ چاروں افراد ان چھ افراد میں شامل تھے جو گل پلازہ میں خریداری کے لیے آئے تھے اور آگ لگنے کے بعد جاں بحق ہو گئے۔ ان کی شناخت سعد، کوثر، مریم اور مصباح کے نام سے ہوئی ہے، جب کہ دو افراد تاحال لاپتہ ہیں۔

نماز جنازہ میں متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم-پی) کے ڈاکٹر فاروق ستار، جماعت اسلامی کے مونم ظفر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سید نجمی عالم سمیت متعدد سیاسی رہنماؤں نے شرکت کی۔

اس کے علاوہ ایک مقتول شخص کی نماز جنازہ گارڈن کے علاقے کاشتی چوک کے قریب ادا کی گئی، جس میں علاقہ مکینوں اور سیاسی شخصیات نے بھی شرکت کی۔

دریں اثنا، سکھر کے میئر بیرسٹر ارسلان اسلام شیخ نے واقعے میں جاں بحق ہونے والے سکھر کے رہائشی محمد اطہر کی نماز جنازہ میں شرکت کی۔

سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق محمد اطہر، جو دو بیٹوں اور دو بیٹیوں کے والد تھے، رمضان المبارک میں نمازِ تراویح کے انتظامات کے لیے ضروری سامان خریدنے گل پلازہ گئے تھے۔

سکھر کے میئر نے سوگوار خاندان کی مالی معاونت کے لیے خصوصی فنڈ قائم کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔