گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات میں مجموعی طور پر 403 امیدوار میدان میں تھے، جن میں 395 مرد اور 8 خواتین امیدوار شامل ہیں۔
انتخابات کے لیے مختلف پولنگ اسٹیشنوں پر صبح سے ہی ووٹرز کا رش دیکھنے میں آیا اور شہری ووٹ ڈالنے کے لیے طویل قطاروں میں کھڑے رہے۔ پولنگ کا عمل بغیر کسی وقفے کے شام 5 بجے تک جاری رہا۔
اسکردو میں پولنگ اسٹیشن کے قریب غیر متعلقہ افراد کی موجودگی پر تکرار کی اطلاعات موصول ہوئیں، تاہم پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے صورتحال کو قابو میں کر لیا۔ دوسری جانب استور کے مختلف پولنگ اسٹیشنوں پر پولنگ کے سست رفتار ہونے کی شکایات بھی سامنے آئیں۔
چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان راجا شہباز نے مختلف پولنگ اسٹیشنوں کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ پولنگ مقررہ وقت پر شروع ہوئی اور عوام بھرپور جوش و خروش کے ساتھ اپنا حقِ رائے دہی استعمال کر رہے ہیں۔
الیکشن کمیشن کے مطابق گلگت بلتستان کے تمام اضلاع میں مجموعی طور پر 1,391 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے تھے، جن میں 349 پولنگ اسٹیشن حساس اور 551 انتہائی حساس قرار دیے گئے تھے۔
گلگت بلتستان اسمبلی کی 24 نشستوں کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی کے 23، پاکستان مسلم لیگ (ن) کے 22، استحکام پاکستان پارٹی کے 15، پاکستان مسلم لیگ کے 11 اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے 9 امیدوار میدان میں تھے۔
اسی طرح مجلس وحدت مسلمین کے 7، جماعت اسلامی اور متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے 6، 6 امیدوار انتخابی دوڑ میں شامل تھے، جب کہ 266 آزاد امیدوار بھی مختلف حلقوں سے الیکشن لڑ رہے ہیں۔
انتخابات کے پرامن انعقاد کے لیے سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے۔ مقامی پولیس، گلگت بلتستان اسکاؤٹس اور پنجاب پولیس کی بھاری نفری مختلف پولنگ اسٹیشنوں اور حساس مقامات پر تعینات رہی، جب کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے انتخابی حلقوں میں فلیگ مارچ بھی کیا۔







