یہ فیصلہ اسلام آباد میں ہونے والی ایک اہم ملاقات کے دوران کیا گیا، جس میں غلام عباس اور وزیراعظم کے یوتھ پروگرام کے چیئرمین رانا مشہود احمد خان نے شرکت کی۔ ملاقات میں NAVTTC اور ہواوے کے اشتراک سے جاری وزیراعظم یوتھ اسکل ڈیولپمنٹ پروگرام (PMYSDP) کو گلگت بلتستان تک بڑھانے کے معاملات پر تفصیلی غور کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق ملاقات کے دوران غلام عباس نے گلگت بلتستان کے لیے خصوصی تربیتی پروگرام کے آغاز کی باضابطہ درخواست پیش کی اور اس بات پر زور دیا کہ خطے کے نوجوانوں میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے، تاہم جغرافیائی دوری، محدود انفراسٹرکچر اور تربیتی اداروں کی کمی کے باعث وہ جدید ٹیکنالوجی کے مواقع سے مکمل فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر نوجوانوں کو عالمی معیار کی آئی ٹی اور ڈیجیٹل اسکلز کی تربیت فراہم کی جائے تو یہ نہ صرف مقامی سطح پر روزگار کے مواقع پیدا کرے گا بلکہ خطے کو ڈیجیٹل معیشت میں بھی نمایاں مقام دلا سکتا ہے۔

اجلاس میں رانا مشہود احمد خان نے گلگت بلتستان کے لیے حکومت کی ترجیحات کو دہراتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کے وژن کے مطابق ملک کے دور دراز اور پسماندہ علاقوں کے نوجوانوں کو مرکزی دھارے میں لانا اولین ترجیح ہے۔

انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ گلگت بلتستان کو یوتھ اسکل ڈیولپمنٹ پروگرام میں خصوصی حیثیت حاصل ہے اور تمام متعلقہ اقدامات کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ نوجوان جدید تربیت حاصل کر سکیں۔

مزید پڑھیں: کچرے کے ڈبوں میں پھینکی جانے والی بیٹریاں خطرناک مسئلہ کیوں بنتی جا رہی ہیں؟

اجلاس کے دوران گلگت بلتستان ہائی ٹیک ڈیجیٹل اسکلز پروگرام کے قیام پر بھی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا، جس کے تحت آئندہ تین سالوں میں 2500 سے زائد نوجوانوں کو بین الاقوامی معیار کی آئی ٹی، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور اے آئی سے متعلق مہارتوں کی تربیت دینے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق یہ اقدامات خطے میں ڈیجیٹل انقلاب کی بنیاد ثابت ہو سکتے ہیں اور نوجوانوں کو نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی سطح پر روزگار کے بہتر مواقع فراہم کریں گے۔

واضح رہے کہ  اگر یہ پروگرام مؤثر انداز میں نافذ کیا گیا تو گلگت بلتستان کے نوجوان آئی ٹی سیکٹر میں پاکستان کی معیشت کے لیے ایک اہم اثاثہ ثابت ہو سکتے ہیں۔