صوبائی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے شفیع جان نے کہا کہ اگر یہ الٹے لٹک جائیں، ہر حال میں ہم نے 27 کو جانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 9 مئی پی ٹی آئی نے نہیں کیا، ہم ریاستی دہشت گردی کا مقابلہ کر رہے ہیں۔
شفیع جان نے کہا کہ یہ لوگ اپنی ہی تاریخ دہرا رہے ہیں، ایک طرف پی ٹی آئی پر کالعدم تنظیموں سے روابط کا الزام لگایا جاتا ہے اور دوسری طرف خود کالعدم تنظیموں سے کہتے ہیں کہ پنجاب میں کارروائیاں نہ کریں۔ قوم کو اس دوغلے پن اور تضاد کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔
وزیر اطلاعات خیبرپختونخوا نے وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ کے موبائل فون کا فرانزک کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ فرانزک ہوگا تو کالعدم تنظیموں سے رابطوں کا پتا چل جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ 9 مئی تحریک انصاف نے نہیں کیا اور نہ ہی ہم 9 مئی کا سوچ سکتے ہیں، جس نے 9 مئی کیا اس کے خلاف ٹھوس شواہد لائے جائیں اور انہیں سزا دی جائے۔
شفیع جان کے مطابق پی ٹی آئی پرامن طریقے سے خیبرپختونخوا سے اسلام آباد کی طرف بڑھے گی، جب کہ دیگر شہروں کے لوگ اسلام آباد نہیں آئیں گے بلکہ اپنے اپنے شہر بند کریں گے۔ خیبرپختونخوا سے متصل شہروں کے لوگ اسلام آباد پہنچیں گے۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب میں پارٹی قیادت میں سے کسی نے لانگ مارچ سے منع نہیں کیا، ہم اس نظام کو گرانے آرہے ہیں اور پوری طاقت کے ساتھ آئیں گے۔
شفیع جان نے کہا کہ لوگوں کے ہجوم سے ہمیں اٹھانا کوئی خالہ جی کا گھر نہیں، اگر اس قسم کے وارنٹ نکالے جا رہے ہیں تو ہم بھی کچھ پلان کرکے بیٹھے ہیں۔ ہمیں اٹھایا یا گرفتار کیا گیا تو ہم نے کچھ ویڈیوز ریکارڈ کرکے رکھی ہوئی ہیں۔
وزیر اطلاعات خیبرپختونخوا نے کہا کہ سہیل آفریدی کو یہ چھو نہیں سکتے، جب تک انہیں نااہل نہ کریں۔ سہیل آفریدی یا دیگر رہنماؤں کو اٹھایا گیا تو اس کے ردعمل کے لیے ویڈیوز تیار کی گئی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ سہیل آفریدی 4 کروڑ لوگوں کے نمائندے اور فارم 45 کے واحد وزیراعلیٰ ہیں۔
یاد رہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب احتجاج کی کال دے رکھی ہے۔ اس حوالے سے پی ٹی آئی رہنماؤں نے بیرسٹر گوہر کی قیادت میں جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کرکے انہیں احتجاج میں شرکت کی دعوت بھی دی ہے۔







