افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر لاہور ہائیکورٹ میں سماعت ہوئی، جس دوران پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ افغان طلبا کے پاس قانونی دستاویزات موجود نہیں ہیں۔

جسٹس خالد اسحاق نے استفسار کیا کہ جب ان طلبا کو داخلہ دیا گیا تو انہیں ایجوکیشن ویزا کیسے جاری کیا گیا؟ انہوں نے کہا کہ طلبا کی زندگی کے 4 سال ضائع کرنے کے بعد اب انہیں واپس بھیجا جا رہا ہے۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ پی ایم ڈی سی کو حکم ملا اور اس کے بعد نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا، لیکن طلبا کو نکالنے سے پہلے ایک مرتبہ انہیں سنا تو جاتا۔

جسٹس خالد اسحاق نے مزید ریمارکس دیے کہ جب ان طلبا کو پسندیدہ قرار دیا جا رہا تھا تو پوری دنیا میں اس کا اعلان کیا جا رہا تھا۔ پی ایم ڈی سی کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ پوری دنیا کا اصول ہے کہ درست ویزا نہ ہونے کی صورت میں کسی شخص کو ملک میں رہنے کی اجازت نہیں ہوتی۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ کل تک یہ طلبا ’فیورٹ چائلڈ‘ تھے اور آج پالیسی تبدیل ہوگئی؟ عدالت نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ ان طلبا کو سزائے موت ہی دے دیں۔

لاہور ہائیکورٹ نے حکم دیا کہ کوئی بھی افغان میڈیکل کالج طالب علم کو نہ نکالا جائے اور نہ ہی اس کا پیپر منسوخ کیا جائے۔

عدالت نے پنجاب کے تمام میڈیکل کالجز کو افغان طلبا کو نکالنے سے روک دیا اور درخواستوں پر مزید کارروائی آئندہ جمعہ تک ملتوی کردی۔