سینیٹر حامد خان نے اپنی گفتگو میں کہا کہ طویل عرصے سے جاری قید تنہائی کے منفی اثرات اب واضح طور پر سامنے آ چکے ہیں، عمران خان کے وکیل سلمان صفدر اپریل میں ان سے ملاقات کر چکے ہیں اور سپریم کورٹ میں باقاعدہ رپورٹس جمع کروا چکے ہیں ، جن میں انکشاف کیا گیا کہ ان کی ایک آنکھ کی تقریباً پچاسی فیصد بینائی ضائع ہو چکی ہے۔ سینیٹر حامد خان کا کہنا تھا کہ قید تنہائی کا کوئی آئینی جواز موجود نہیں اور جیل قوانین کے تحت بھی اس کی زیادہ سے زیادہ مدت چودہ دن مقرر ہے، جبکہ عمران خان کو مہینوں سے اسی صورتحال میں رکھا گیا ہے، نہ انہیں اخبار دیا جاتا ہے، نہ ٹی وی دیکھنے کی اجازت ہے اور نہ باقاعدگی سے ملاقاتوں کی۔ یہاں تک کہ ان کی بیرک کے ارد گرد کی دیگر بیرکیں بھی خالی کرا دی گئی ہیں تاکہ وہ کسی سے رابطے میں نہ آ سکیں۔حکومتی مؤقف ، عمران خان کو کتابیں اور ٹی وی کی سہولت دی جا رہی ہے، کو انہوں نے 'بالکل غلط'قرار دیا اور اس ضمن میں عمران خان کی ہمشیرہ کی پریس کانفرنس میں کی گئی شکایات کا حوالہ دیا۔
انہوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلے کا حوالہ بھی دیا جس میں قید تنہائی ختم کرنے اور بشریٰ بی بی سمیت اہلِ خانہ سے ملاقات کی اجازت دینے کا حکم دیا گیا تھا، تاہم ماضی کی طرح اس فیصلے پر بھی عملدرآمد کی رفتار مایوس کن رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کا پہلے سے ایک واضح حکم موجود ہے کہ عمران خان کو شفاء انٹرنیشنل ہسپتال لے جا کر معائنہ اور علاج کرایا جائے، اور اس حکم میں لفظ 'ٹریٹمنٹ' استعمال ہوا ہے جس کا مطلب محض معائنہ نہیں بلکہ باقاعدہ داخلہ اور ادویات کی فراہمی ہے۔ یہ حکم آج بھی نافذ العمل ہے، اسے معطل نہیں کیا گیا اور نہ ہی نظرثانی درخواست پر کوئی سماعت ہوئی، اس لیے حکومت پر اب بھی اس پر عمل درآمد کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ سینیٹر حامد خان نے سوال اٹھایا کہ سکیورٹی کے مسائل کا عذر بے بنیاد ہے کیونکہ سکیورٹی فراہم کرنا خود ریاست کی ذمہ داری ہے، اسے علاج نہ کرانے کا جواز نہیں بنایا جا سکتا
آئین کے آرٹیکل 190 کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہر ایگزیکٹو ادارے کا فرض ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلوں پر عمل درآمد کرے، مگر موجودہ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی 'کمزوری' ہے کہ توہینِ عدالت کی زیرِ التوا درخواست تاحال سماعت کے لیے مقرر نہیں کی گئی، حالانکہ عدالتی روایت میں فیصلے پر عمل نہ ہونے کی صورت میں کیس کو ترجیحی بنیادوں پر لگانا ہی معمول ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سولہ ستمبر تک بات پہنچ جانے کے باوجود عملدرآمد نہ ہونا حکومت کی نیت پر سوالیہ نشان ہے۔ عمران خان اور کسی خفیہ ڈیل یا 'این آر او' سے متعلق افواہوں کو سینیٹر حامد خان نے مکمل طور پر مسترد کیا اور کہا کہ عمران خان کا مؤقف ہمیشہ سے واضح رہا ہے کہ وہ آئین کے دائرے میں رہ کر ہی سیاست اور بات چیت کریں گے، کسی سے ڈیل کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ اسٹیبلشمنٹ کا سیاست سے کوئی آئینی تعلق نہیں اور موجودہ حکومت کو عوامی مینڈیٹ حاصل نہیں۔
اوورسیز پاکستانیوں کا فنڈ اور چھبیس نومبر کا واقعہ
چھبیس نومبر کے احتجاج میں جاں بحق ہونے والوں اور قید کارکنان کی رہائی کے لیے اوورسیز پاکستانیوں کی جانب سے قائم کیے گئے تقریباً 38 کروڑ روپے کے فنڈ سے متعلق سوال پر سینیٹر حامد خان نے کہا کہ اس فنڈ کا انتظام بنیادی طور پر خیبرپختونخوا حکومت اور پارٹی کے دائرہ کار میں آتا ہے، اس لیے وہ اس بارے میں حتمی معلومات نہیں دے سکتے، تاہم انہیں یقین ہے کہ یہ رقم متاثرہ خاندانوں تک پہنچائی گئی ہوگی اور اس کے مکمل اعداد و شمار پارٹی کے پاس موجود ہونے چاہئیں۔ چھبیس نومبر کے واقعے کو انہوں نے ایک 'جائز احتجاج' قرار دیا جس کا جواب فائرنگ اور کارکنان کی ہلاکت سے دیا گیا، جبکہ متعدد لاشیں تاحال لواحقین کے حوالے نہیں کی گئیں۔ انہوں نے آزاد کشمیر میں بھی احتجاج کرنے والوں پر فائرنگ کیے جانے اور جانی نقصان کا ذکر کیا اور اسے موجودہ سیٹ اپ کے جابرانہ رویے کی ایک اور مثال قرار دیا۔
پی ٹی آئی کا ممکنہ لانگ مارچ اور پارٹی قیادت
عمران خان کی رہائی کے مطالبے کے تحت خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے اسلام آباد کی جانب مارچ کے اعلان پر بات کرتے ہوئے سینیٹر حامد خان نے ماضی کے احتجاجی مارچز کو 'ناکام' قرار دینے سے انکار کیا اور انہیں ریاستی جبر کا نشانہ بننے والی تحریکیں قرار دیا۔ ' کسی بھی جمہوری معاشرے میں پرامن احتجاج پر گولی چلانا معمول کی بات نہیں اور موجودہ سیٹ اپ نے اپنے ہی شہریوں پر فوج اور فورسز کا استعمال کر کے یہ روایت قائم کی ہے، جو انتہائی افسوسناک ہے'
پارٹی کی موجودہ قیادت کے کردار سے متعلق سوال پر انہوں نے واضح کیا کہ حقیقی قیادت اب بھی عمران خان ہی ہیں، جو بحیثیت چیئرمین جیل میں بیٹھ کر بھی جبر کا سامنا کر رہے ہیں۔ موجودہ عہدیداران، جن میں بیرسٹر گوہر اور راجہ ناصر عباس جیسے نام شامل ہیں، محض ایک 'عبوری بندوبست' (stop-gap arrangement) کے طور پر کام کر رہے ہیں اور تمام فیصلے بالآخر قیادت کی مرضی سے ہی ہو رہے ہیں۔ پارٹی کے صوبائی سطح کے رہنما، جیسا کہ ڈاکٹر یاسمین راشد، شاہ محمود قریشی اور مراد سعید، مختلف صورتوں میں پابندِ سلاسل یا محدود ہیں، اس لیے قیادت'دستیاب'نہیں، مگر یہ کمزوری نہیں بلکہ میڈیا پر جاری پابندیوں کے باعث محدود کوریج کا نتیجہ ہے۔ اپنی اور پارٹی کی سابقہ اختلافیات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے تسلیم کیا کہ حکومت کے ابتدائی دور میں اسٹیبلشمنٹ سے قربت پر ان کے کچھ نظریاتی اختلافات رہے، تاہم اب پارٹی کے مؤقف سے مکمل اتفاق رکھتے ہیں۔ محمود خان اچکزئی کے ساتھ پارٹی اختلافات کے حوالے سے انہوں نے وضاحت دی کہ ماضی میں کچھ اختلافات موجود تھے مگر اب دونوں کا ایجنڈا اور بیانیہ یکساں ہے اور خود عمران خان نے اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر کے طور پر نامزد کیا تھا۔
آئینی ترامیم، عدلیہ کی آزادی اور وکلا تحریک
سینیٹر حامد خان نے موجودہ سیاسی بحران کو ایک سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ آئینی و عدالتی بحران قرار دیا۔ ان کے مطابق چھبیسویں اور ستائیسویں آئینی ترامیم نے عدلیہ کا ڈھانچہ بگاڑ کر رکھ دیا ہے، سپریم کورٹ کو عملاً دو حصوں میں تقسیم کر کے ایک 'جعلی' متوازی آئینی عدالت تشکیل دی گئی ہے، جس کے ججز کی تعیناتی چند مخصوص عہدیداران کی مرضی سے ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میںچاہے امریکا ہو، برطانیہ ہو، بھارت، بنگلہ دیش یا سری لنکاسپریم کورٹ ہی آئینی عدالت تصور کی جاتی ہےاور اس کے متوازی کوئی دوسری آئینی عدالت قائم کرنا خود عدالتی نظام کی تباہی کے مترادف ہے۔ اسی تناظر میں وکلا برادری نے ستمبر دو ہزار چوبیس سے احتجاجی تحریک شروع کر رکھی ہے، جس کے تحت لاہور، کراچی، اسلام آباد اور پشاور سمیت ملک بھر میں کنونشنز منعقد ہو چکے ہیں۔ سابق صدر سپریم کورٹ بار علی احمد کرد کی سربراہی میں قائم کردہ نیشنل ایکشن کمیٹی، جس میں ملک بھر کے وکلا نمائندگان شامل ہیں، رواں ماہ سے اس تحریک کو مزید تیز کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ 'حامد خان گروپ' کوئی ذاتی گروپ نہیں بلکہ ایک قومی نوعیت کا پروفیشنل وکلا فورم ہے جو گزشتہ پچاس، ساٹھ برسوں سے ایوب خان، یحییٰ خان، ضیاء الحق اور مشرف سمیت ہر آمرانہ دور کے خلاف سرگرم رہا ہے۔
انہوں نے موجودہ فوجی قیادت کے تحت منظور کیے گئے 'چیف آف ڈیفنس فورسز'کے قانون کو پاکستان کی تاریخ میں ایک غیر معمولی اور خطرناک اقدام قرار دیا، کیونکہ اس کے تحت پہلی بار تینوں مسلح افواج کو ایک ہی جنرل کے ماتحت کر دیا گیا ہے، جبکہ روایتی طور پر تینوں افواج کا رابطہ صرف چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی تک محدود ہوتا تھا، یہ اقدام ملک میں فوجی ڈکٹیٹرشپ کو مزید مستحکم کرنے کے سلسلے کی کڑی ہے اور اسی تسلسل میں اب ممکنہ اٹھائیسویں ترمیم زیرِ غور بتائی جا رہی ہے۔
صوبوں کی تقسیم اور خودمختاری کا معاملہ
ممکنہ اٹھائیسویں ترمیم سے متعلق سینیٹر حامد خان کا مؤقف سب سے زیادہ سخت رہا۔ ان کے مطابق اس ترمیم کا اصل مقصد صوبوں کو کمزور کرنا اور اٹھارویں ترمیم کے ذریعے دی گئی صوبائی خودمختاری کو محدود کرنا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ اٹھارویں ترمیم دو ہزار دس میں ایک وسیع قومی اتفاقِ رائے کے ساتھ پاس ہوئی تھی، جس میں اس وقت کی تمام بڑی جماعتیں پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی سمیت شریک تھیں اور اس کے ذریعے پاکستان میں بھارت سمیت دیگر ممالک کی طرز پر صوبائی خودمختاری بحال کی گئی تھی، اسٹیبلشمنٹ کو دراصل اس بات پر تکلیف ہے کہ وسائل اور فنڈز اب صوبوں کے پاس جاتے ہیں، اسی لیے صوبوں کے اختیارات محدود کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
وکلا تنظیمیں نئے صوبوں کی تشکیل کے کسی بھی اقدام کی متفقہ طور پر مخالفت کرتی ہیں۔ ان کا مؤقف تھا کہ موجودہ چاروں صوبے پاکستان کے قیام میں بنیادی کردار ادا کر چکے ہیںسب سے پہلے سندھ اسمبلی نے قراردادِ پاکستان کی توثیق کی، اس کے بعد پنجاب اور خیبرپختونخوا (اس وقت این ڈبلیو ایف پی) میں ریفرنڈم ہوا، جبکہ بلوچستان میں بھی مختلف قوتوں نے پاکستان کے حق میں کردار ادا کیا، ون یونٹ کے ذریعے ماضی میں انہی صوبوں کی شناخت ختم کرنے کی کوشش کی جا چکی ہے، اس لیے موجودہ صوبائی ڈھانچے سے کسی قسم کی چھیڑ چھاڑ ناقابلِ قبول ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئینی ترمیم کرنے کا اختیار صرف ایک ایسی پارلیمنٹ کو حاصل ہوتا ہے جو عوامی نمائندگی رکھتی ہو، جبکہ آٹھ فروری دو ہزار چوبیس کے انتخابی نتائج میں مبینہ ردوبدل کے بعد وجود میں آنے والی موجودہ پارلیمنٹ عام قانون سازی کی بھی اہل نہیں،
تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ نئے صوبوں کے قیام کے وہ مکمل طور پر مخالف نہیں، بشرطیکہ یہ فیصلہ ایک جائز اور بااختیار پارلیمنٹ، وسیع قومی مشاورت اور تمام سیاسی جماعتوں کے اتفاقِ رائے سے کیا جائے، جیسا کہ اٹھارویں ترمیم سے قبل ایک سو تئیس رکنی پارلیمانی کمیٹی نے کیا تھا۔ اسی اصول کے تحت انہوں نے گلگت بلتستان کو مکمل صوبائی درجہ اور آئینی حقوق دینے کی برسوں پرانی حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ گلگت بلتستان تاریخی طور پر کشمیر کا حصہ نہیں بلکہ ایک الگ خطہ تھا جس نے اپنی مدد آپ کے تحت بھارت سے علیحدگی اختیار کر کے پاکستان میں شمولیت اختیار کی، اس لیے اس کے عوام کو مکمل آئینی حقوق ملنے چاہئیں۔
انہوں نے زور دیا کہ صوبے کبھی 'انتظامی یونٹ' نہیں ہوتے بلکہ وفاق کا لازمی حصہ ہوتے ہیں، جبکہ ڈویژن، ضلع اور تحصیل جیسے ادارے انتظامی یونٹس کہلاتے ہیں۔ فوجی اسٹیبلشمنٹ اور اس کے نمائندے، جیسے وزیرِ داخلہ محسن نقوی، اس بنیادی آئینی نکتے کو نظرانداز کرتے ہوئے صوبوں کو انتظامی اکائیوں کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔
بلدیاتی نظام اور وسائل کی تقسیم
سینیٹر حامد خان کے مطابق نئے صوبے بنانے کی بجائے حکومت کو بلدیاتی نظام مضبوط کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت سمیت ماضی کی حکومتیں بھی جان بوجھ کر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کرتی رہی ہیں کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ آٹھ فروری کے نتائج کی طرح عوام ان کے خلاف ہیں اور کسی بھی سطح کے انتخابات میں انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے اراکین کو ترقیاتی فنڈز دینے کی بجائے یہ وسائل براہِ راست بلدیاتی اداروں کے ذریعے تقسیم ہونے چاہئیں اور آئین کا آرٹیکل 148 پہلے ہی ضلعی حکومتوں کے قیام کی ضمانت دیتا ہے، اس لیے حکومت کو نئے صوبے بنانے کی بجائے موجودہ آئینی دفعات پر عمل کرنا چاہیے۔
معیشت، مہنگائی اور جماعتِ اسلامی کے دھرنے سے یکجہتی
سینیٹر حامد خان نے واضح کیا کہ جس ملک میں سیاسی استحکام نہیں ہوتا، وہاں معاشی استحکام بھی ممکن نہیں اور پاکستان اس وقت دونوں بحرانوں کا شکار ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات اور بجلی کی قیمتوں کے خلاف جماعتِ اسلامی کے جاری دھرنے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ ایک عوامی نوعیت کا مسئلہ ہے اور پی ٹی آئی اس معاملے پر جماعتِ اسلامی کے مؤقف سے مکمل اتفاق رکھتی ہے۔ ایران اسرائیل کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے، تاہم بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکا جیسے ممالک کی حکومتوں نے اپنے عوام کو اس بوجھ سے کافی حد تک محفوظ رکھا، جبکہ پاکستانی حکومت مسلسل قیمتیں بڑھا کر بوجھ براہِ راست عوام پر منتقل کر رہی ہے۔
ٹیکنوکریٹ حکومت کی افواہیں اور مستقبل کا منظرنامہ
گفتگو کے اختتام پر ممکنہ ٹیکنوکریٹ حکومت کی افواہوں سے متعلق سوال پر سینیٹر حامد خان نے کہا کہ اس نوعیت کی خبریں گردش کر رہی ہیں اور موجودہ سیٹ اپ کچھ بھی کر گزرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، تاہم پاکستان کی بنیاد ہی جمہوری اصولوں پر رکھی گئی تھی، قائدِ اعظم، لیاقت علی خان، حسین شہید سہروردی اور علامہ اقبال جیسی شخصیات، جن میں سے اکثر وکلا اور سیاستدان تھے نہ کہ فوجی جرنیل، نے سول اور جمہوری عمل کے ذریعے یہ ملک تشکیل دیا، اس لیے کسی بھی غیر جمہوری یا ٹیکنوکریٹک تجربے کا کوئی آئینی یا تاریخی جواز نہیں بنتا۔
انہوں نے موجودہ صورتحال کا موازنہ برما سے کرتے ہوئے کہا کہ جو ممالک اس طرز کی غیر نمائندہ حکومتیں قائم کرتے ہیں وہ نہ سیاسی استحکام حاصل کر پاتے ہیں اور نہ معاشی ترقی، اور پاکستان بھی اسی راستے پر گامزن دکھائی دیتا ہے۔ حکومتی دعووں کے برعکس ملک میں غیرملکی سرمایہ کاری آنے کی بجائے کئی غیرملکی کمپنیاں کاروبار سمیٹ کر جا چکی ہیں، جو ان کے نزدیک ملکی معیشت کی اصل تصویر پیش کرتا ہے۔ آخر میں انہوں نے کہا کہ ظلم اور جبر پر مبنی نظام طویل عرصے تک نہیں چل سکتے اور جب حکومت کا اپنا وزیرِ داخلہ خود تسلیم کر رہا ہے کہ نظام مفلوج ہو چکا ہے تو ایسی صورت میں اقتدار جاری رکھنے کا کوئی اخلاقی یا آئینی جواز باقی نہیں رہتا۔ تبدیلی صرف عوامی قوت کے ذریعے ہی ممکن ہے اور وہ پرامید ہیں کہ عنقریب حالات میں تبدیلی آئے گی۔







