باب المندب ایشیا، یورپ اور افریقہ کے درمیان بحری تجارت کا اہم راستہ ہے، جہاں سے روزانہ بڑی تعداد میں تجارتی جہاز گزرتے ہیں۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ میون اور دیگر جزائر پر کنٹرول کے بعد کیا حوثی بحیرۂ احمر میں عالمی تجارت کو روکنے کی پوزیشن میں آگئے ہیں؟
یمن کے ساحل سے چند کلومیٹر دور ایک چھوٹا سا آتش فشانی جزیرہ ہے، جسے عربی میں میون اور انگریزی میں پیرم آئی لینڈ کہا جاتا ہے، جس کا رقبہ صرف تقریباً 13 مربع کلومیٹر ہے، لیکن محلِ وقوع ایسا کہ یہ جزیرہ بحیرۂ احمر کے جنوبی دروازے باب المندب کے عین اندر واقع ہے اور آبنائے کو دو آبی راستوں میں تقسیم کرتا ہے۔
اب یہی چھوٹا سا جزیرہ خطے کی ایک بڑی جغرافیائی جنگ کا مرکز بن چکا ہے۔ تازہ رپورٹس کے مطابق حوثی جنگجوؤں نے 11 ستمبر 2026 کو میون جزیرے پر قبضہ کر لیا ہے۔ اس سے قبل حوثیوں نے یمن کے بحیرۂ احمر کے ساحل پر واقع اہم بندرگاہ موخا اور ذباب کے علاقے میں بھی پیش قدمی کی۔
میون جزیرہ کہاں ہے؟
میون یمن کے جنوب مغربی ساحل کے قریب آبنائے باب المندب میں واقع ہے۔ ایک طرف یمن کا ساحل ہے، جب کہ دوسری جانب افریقہ میں جبوتی اور اریٹیریا واقع ہیں۔ جزیرہ یمن کی سرزمین سے تقریباً 4 کلومیٹر جب کہ جبوتی سے تقریباً 25 کلومیٹر دور ہے۔
نقشے پر یہ ایک معمولی سا جزیرہ دکھائی دیتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ اس سمندری راستے کے درمیان موجود ایک قدرتی نگرانی کے مقام کی حیثیت رکھتا ہے جہاں سے دنیا کے بڑے تجارتی جہاز گزرتے ہیں۔
باب المندب اتنا اہم کیوں ہے؟
باب المندب کو عربی میں ’آنسوؤں کا دروازہ‘ کہا جاتا ہے۔ یہ آبنائے بحیرۂ احمر کو خلیجِ عدن اور آگے بحیرۂ عرب سے ملاتی ہے۔ اس کے شمال میں بحیرۂ احمر کے راستے سوئز کینال ہے یعنی ایشیا سے یورپ جانے والا بحری جہاز اگر سوئز کینال کے ذریعے سفر کرے تو اسے باب المندب سے گزرنا پڑتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ باب المندب دنیا کے اہم ترین میری ٹائم چوک پوائنٹس میں شمار ہوتا ہے۔ آبنائے کا تنگ ترین حصہ تقریباً 18 میل چوڑا ہے اور اس کے ذریعے تیل، گیس، کنٹینرز اور دوسری عالمی تجارت کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔
سادہ الفاظ میں میون پر نظر رکھنے کا مطلب باب المندب کے سمندری راستے پر نظر رکھنے کی صلاحیت حاصل کرنا ہے۔
پھر میون کی خاص اہمیت کیا ہے؟
میون آبنائے کے اندر واقع ہے۔ یہ جزیرہ آبنائے کو دو چینلز میں تقسیم کرتا ہے اور اس کی پوزیشن ایسی ہے کہ یہاں موجود قوت بحری جہازوں کی آمدورفت کو دیکھنے، مانیٹر کرنے اور ضرورت پڑنے پر خطرے میں ڈالنے کی صلاحیت حاصل کر سکتی ہے۔
اسی لیے ماضی میں بھی مختلف طاقتوں نے اس جزیرے میں دلچسپی لی۔ برطانوی دور میں بھی میون کی اسٹریٹجک حیثیت کو اہم سمجھا گیا، جب کہ سرد جنگ کے زمانے میں سوویت موجودگی بھی یہاں رہی۔
حالیہ برسوں میں بھی جزیرے پر فوجی سرگرمیوں نے عالمی توجہ حاصل کی۔ سیٹلائٹ تصاویر میں وہاں ایک رن وے اور فوجی انفراسٹرکچر کی تعمیر دیکھی گئی تھی، جسے رپورٹس نے متحدہ عرب امارات سے منسلک کیا۔ یعنی میون کوئی عام غیر آباد جزیرہ نہیں، یہ باب المندب کے بیچ ایک اسٹریٹجک فوجی پلیٹ فارم بن سکتا ہے۔
حوثی کون ہیں؟
حوثی یمن کی ایک سیاسی، مذہبی اور مسلح تحریک ہے جسے وہ خود انصار اللہ کہتے ہیں۔ یہ تحریک شمالی یمن میں زیدی شیعہ برادری سے ابھری اور 1990 کی دہائی میں اس کی سیاسی و مذہبی سرگرمیاں بڑھیں۔
بعد میں یہ تحریک مسلح جدوجہد میں تبدیل ہوئی اور 2014 میں حوثیوں نے یمن کے دارالحکومت صنعاء پر قبضہ کر لیا۔ اس کے بعد سعودی عرب کی قیادت میں ایک فوجی اتحاد نے حوثیوں کے خلاف کارروائی شروع کی اور یمن ایک طویل جنگ میں داخل ہوگیا۔
حوثیوں کو ایران کی مالی، عسکری، انٹیلی جنس اور تکنیکی مدد حاصل رہی ہے، اگرچہ ایران حوثیوں کو براہِ راست کنٹرول کرنے کے الزام کی تردید کرتا ہے۔ ماہرین انہیں ایران کا مکمل ’پراکسی‘ قرار دینے کے بجائے بعض اوقات ایران کا غیر رسمی اتحادی یا پارٹنر بھی قرار دیتے ہیں۔
حوثی میون تک کیوں پہنچے؟
اس سوال کا جواب صرف یمن کی خانہ جنگی میں نہیں بلکہ پورے خطے کی موجودہ طاقت کی کشمکش میں چھپا ہے۔ حوثیوں نے 2023 کے بعد بحیرۂ احمر میں اسرائیل سے منسلک یا اسرائیل جانے والے کئی بحری جہازوں پر حملے شروع کیے۔
ان کا مؤقف تھا کہ یہ کارروائیاں غزہ میں فلسطینیوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے ہیں۔ ان حملوں نے عالمی بحری تجارت کو شدید متاثر کیا اور کئی بڑی شپنگ کمپنیوں کو بحیرۂ احمر کے بجائے افریقہ کے گرد کیپ آف گڈ ہوپ کا طویل راستہ اختیار کرنا پڑا۔
اب حوثیوں کی میون تک پیش قدمی ایک مختلف سطح کی اسٹریٹجک اہمیت رکھتی ہے۔ کیونکہ بحری جہازوں پر حملہ کرنے کی صلاحیت ایک بات ہے، لیکن اس راستے کے قریب زمین اور جزیرے پر پوزیشن حاصل کرنا دوسری بات ہے۔
اگر حوثی میون پر قابض رہتے ہیں تو کیا ہوگا؟
سب سے بڑا خطرہ یہ نہیں کہ حوثی فوراً باب المندب کو مکمل طور پر بند کر دیں گے۔ اصل خطرہ یہ ہے کہ ان کے پاس اس انتہائی حساس سمندری راستے کے قریب ایک مستقل اسٹریٹجک پوزیشن آ جائے گی۔
وہاں سے وہ بحری آمدورفت کی نگرانی بڑھا سکتے ہیں، جس سے بحری جہازوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ حوثیوں کے پاس پہلے ہی میزائل، ڈرون اور دیگر ہتھیار موجود ہیں۔ جزیرے اور اس کے آس پاس کے ساحلی علاقوں پر موجودگی ان صلاحیتوں کو سمندری راستے کے مزید قریب لا سکتی ہے۔
اس کے علاوہ عالمی شپنگ مزید متاثر ہوسکتی ہے، اگر جہاز رانی کرنے والی کمپنیاں یہ سمجھیں کہ باب المندب میں خطرہ بڑھ گیا ہے تو مزید جہاز افریقہ کے گرد طویل راستہ اختیار کر سکتے ہیں۔ 2023-24 میں حوثیوں کے حملوں کے بعد ایسا ہی منظر دیکھنے میں آیا تھا۔
باب المندب خلیج سے یورپ اور دیگر عالمی منڈیوں تک توانائی کی ترسیل کے اہم راستے میں شامل ہے۔ خاص طور پر موجودہ صورتحال میں اس کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے کیونکہ خطے میں آبنائے ہرمز بھی شدید جغرافیائی کشیدگی کا شکار ہے یعنی اگر ہرمز ایک طرف سے متاثر ہو اور باب المندب دوسری طرف سے خطرے میں آجائے تو عالمی توانائی کی سپلائی پر دباؤ کئی گنا بڑھ سکتا ہے۔
میون پر قبضہ باب المندب کی مکمل ناکہ بندی ہے؟
میون پر قبضہ باب المندب کی مکمل ناکہ بندی نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ میون پر قبضہ حوثیوں کو ایک انتہائی اہم اسٹریٹجک پوزیشن دیتا ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ پورے باب المندب کے ہر حصے پر مکمل فوجی کنٹرول حاصل کر چکے ہیں۔
آبنائے کے دوسری جانب افریقی ساحل موجود ہے، اور عالمی طاقتیں بھی اس سمندری راستے کی حفاظت میں دلچسپی رکھتی ہیں۔ لہٰذا میون پر قبضے کو باب المندب کی مکمل بندش کے بجائے اس اہم راستے پر حوثیوں کی اسٹریٹجک گرفت میں بڑے اضافے کے طور پر دیکھنا زیادہ درست ہوگا۔
’چوک پوائنٹ‘ کی کہانی
دنیا میں چند ایسے سمندری مقامات ہیں جنہیں چوک پوانٹس کہا جاتا ہے۔ یہ وہ مقامات ہیں جہاں سے عالمی تجارت کا بڑا حصہ ایک نسبتاً محدود راستے سے گزرتا ہے۔ ان میں آبنائے ہرمز، باب المندب، آبنائے ملاکا اور سوئز کینال شامل ہیں۔
ان میں سے کسی ایک راستے میں بڑی رکاوٹ پیدا ہو تو اس کا اثر صرف متعلقہ ملک تک محدود نہیں رہتا بلکہ تیل، شپنگ، انشورنس، خوراک اور عالمی قیمتوں تک پہنچ سکتا ہے اور میون انہی میں سے ایک انتہائی حساس راستے کے بیچ موجود ہے۔
آگے کیا ہوگا؟
میون پر حوثیوں کا قبضہ یمن کی جنگ کو صرف زمینی جنگ نہیں رہنے دیتا۔ اب معاملہ سمندر، تجارت، تیل اور عالمی طاقتوں تک پہنچ چکا ہے۔
یمن کی حکومت حوثیوں کے خلاف جوابی کارروائی کی تیاری کر رہی ہے، جب کہ تازہ رپورٹس کے مطابق حوثیوں کی پیش قدمی نے سعودی عرب اور دیگر علاقائی طاقتوں کے لیے بھی خطرات بڑھا دیے ہیں۔ اگر حوثی میون اور باب المندب کے آس پاس اپنی موجودگی مستحکم کرنے میں کامیاب ہوگئے تو ان کے ہاتھ میں صرف یمن کا ایک جزیرہ نہیں ہوگا۔
ان کے پاس ایک ایسا جغرافیائی دباؤ کا ذریعہ ہوگا جس کے ذریعے وہ دنیا کے اہم ترین تجارتی راستوں میں سے ایک پر اثر ڈال سکتے ہیں۔ اسی لیے 13 مربع کلومیٹر کا یہ چھوٹا سا جزیرہ آج عالمی طاقتوں کی نظروں میں غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکا ہے۔







