سندھ اسمبلی کے اجلاس میں کراچی میں فاطمہ یونیورسٹی کے قیام کا بل متفقہ طور پر منظور کیا گیا، جب کہ ایگرا یونیورسٹی کے ترمیمی بل اور بینظیر بھٹو شہید ہیومن ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ کے ترمیمی بل کی بھی منظوری دے دی گئی۔
اجلاس کے دوران بینظیر بھٹو شہید ہیومن ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ کا ترمیمی بل وزیر قانون سندھ ضیا الحسن لنجار نے ایوان میں پیش کیا، جسے ارکان نے متفقہ طور پر منظور کرلیا۔
ایوان نے کراچی میں رینجرز کے اختیارات میں ایک سال کی توسیع سے متعلق قرارداد بھی متفقہ طور پر منظور کرلی۔
اجلاس میں سینئر وزیر سندھ شرجیل انعام میمن نے صوبے میں بجلی، گیس اور پانی کی فراہمی کے مسائل پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔
شرجیل میمن نے کہا کہ کے الیکٹرک، حیسکو اور دیگر ادارے ناکام ہوچکے ہیں، صرف محکمہ بنانے اور بل وصول کرنے سے محکمہ نہیں بنتا۔ شہریوں کو پانی، گیس اور بجلی جیسے بنیادی مسائل کا سامنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مسئلہ صرف بجلی تک محدود نہیں بلکہ گیس اور پانی کے شعبوں میں بھی یہی صورتحال ہے۔ سندھ کو گیس اور پانی بھی پورا نہیں دیا جارہا، جبکہ گیس کی سپلائی میں بھی صوبے کو امتیازی سلوک کا سامنا ہے۔
سینئر وزیر سندھ نے سوال اٹھایا کہ کون بجلی کا بل ادا کررہا ہے اور کون نہیں کررہا، کیا اس حوالے سے کوئی مؤثر میکانزم موجود ہے؟
شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ شدید گرمی والے علاقوں میں 18، 18 گھنٹے تک لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جیکب آباد میں شدید گرمی پڑتی ہے اور ایسے علاقوں میں طویل لوڈشیڈنگ شہریوں کے لیے مشکلات میں مزید اضافہ کررہی ہے۔
واضح رہے کہ سندھ میں بجلی، گیس اور پانی کی فراہمی کے مسائل طویل عرصے سے سیاسی اور عوامی سطح پر زیر بحث ہیں۔ سندھ حکومت بالخصوص بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں اور گیس کی فراہمی کے نظام پر متعدد مرتبہ اپنے تحفظات کا اظہار کرچکی ہے۔
دوسری جانب کراچی میں نئی جامعات کے قیام اور اعلیٰ تعلیم کے فروغ سے متعلق قانون سازی کو صوبے میں تعلیمی مواقع بڑھانے کی کوششوں کا حصہ قرار دیا جارہا ہے۔







