میئر کراچی کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کراچی آ کر جلسے کرتے ہیں، لیکن اپنے صوبے میں عوام کو درپیش مسائل پر توجہ دینے کے بجائے دیگر صوبوں میں سیاسی سرگرمیوں کے ذریعے پہیہ جام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کراچی ایک بڑا اور مصروف شہر ہے، یہاں جلسہ کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ باغِ جناح جیسے وسیع میدان کو بھرنے کے لیے مضبوط تنظیم اور عوامی حمایت درکار ہوتی ہے، جو پی ٹی آئی کے جلسے میں واضح طور پر نظر نہیں آئی۔
دوسری جانب وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی نے پی ٹی آئی کے احتجاجی رویے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ پُرامن احتجاج ایک آئینی حق ضرور ہے، تاہم پی ٹی آئی اور پُرامن احتجاج دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ ماضی میں بھی پی ٹی آئی کے احتجاج انتشار اور بدامنی کا باعث بنتے رہے ہیں۔
ادھر پی ٹی آئی کے جلسے کے دوران سیکیورٹی صورتحال بھی کشیدہ رہی۔ کراچی کے علاقے باغِ جناح میں پی ٹی آئی کارکنان اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، جس دوران پولیس پر پتھراؤ کیا گیا۔ پولیس نے صورتحال قابو میں لاتے ہوئے متعدد کارکنان کو حراست میں لے لیا۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کراچی میں پی ٹی آئی کے جلسے سے خطاب کیا۔ نمائش چورنگی پر خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ مختلف مقامات پر پولیس کی جانب سے سخت رویہ اختیار کیا گیا، تاہم اس کے باوجود کارکن بڑی تعداد میں جلسہ گاہ پہنچے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ پنجاب اور سندھ دونوں صوبوں میں پی ٹی آئی کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا گیا اور انتظامی رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔اس کے باوجود پی ٹی آئی کی اسٹریٹ موومنٹ جاری رہے گی اور آئندہ مرحلے میں خیبرپختونخوا میں احتجاجی سرگرمیوں کو مزید تیز کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ پارٹی بانی کا پیغام ملک بھر میں پہنچایا جائے گا اور عوامی حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔







