حافظ نعیم الرحمان نے تمام بین الاقوامی مہمانوں کا خیرمقدم کیا اور اپنی تقریر کا آغاز غزہ کی سنگین صورتحال سے کیا۔ انہوں نے کہا کہ غزہ میں بچے، خواتین اور شہری بدترین تباہی کا سامنا کر رہے ہیں جبکہ عالمی ادارے خاموش ہیں اور طاقتور حکومتیں بے حسی کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطینیوں کی مقدس سرزمین چھین لی گئی ہے اور اس کے پیچھے وہی عالمی طاقتیں ہیں جو دوسری عالمی جنگ کے بعد بنی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ آج ایک نیا عالمی اتحاد ابھر رہا ہے لیکن انسانیت کا اتحاد اس کے سامنے ڈٹ کر کھڑا ہوگا۔

انہوں نے دنیا بھر میں انسانیت کے لیے آواز اٹھانے والے کارکنوں کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ یہ کارکن، خواہ مسلمان ہوں یا غیر مسلم، انسانیت کے سپاہی ہیں۔ انہوں نے سامد فریڈم پروجیکٹ میں شامل کارکنوں کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا۔

کشمیر کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وادی کی صورتحال بھی غزہ سے مختلف نہیں، لیکن دنیا مسلسل خاموش ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے دس لاکھ فوجی اور نیم فوجی اہلکار روزانہ انسانی حقوق پامال کر رہے ہیں۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی نگرانی میں استصواب رائے کے مطالبے کو دہرایا اور کہا کہ کشمیر کی آزادی کی تحریک کو عالمی سطح پر اجاگر کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے اسلام کے نظام عدل، مساوات اور انسانیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ میں ایک ایسی معاشرت تشکیل دی تھی جہاں مختلف پس منظر رکھنے والے لوگ ایک امت کی طرح رہتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام جوڑتا ہے، تقسیم نہیں کرتا اور جماعت اسلامی ہر مظلوم کے ساتھ کھڑی ہے خواہ وہ کسی بھی مذہب یا قومیت سے تعلق رکھتا ہو۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کو ایسے نظام کی ضرورت ہے جو مادی اور اخلاقی دونوں ضروریات پوری کرے، اور اسلام ایک متوازن نظام پیش کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ جب امت متحد ہوتی ہے تو دنیا بدل جاتی ہے اور جب امت کمزور پڑتی ہے تو انسانیت متاثر ہوتی ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے نوجوان نسل، خصوصاً جنریشن زی، کو امید کی نئی کرن قرار دیا اور کہا کہ وہ دنیا بھر میں ناانصافی، نسل پرستی، جنگ اور ماحولیاتی تباہی کے خلاف آواز بلند کر رہی ہے اور یہی نسل مستقبل کی سرمایہ کاری ہے۔

انہوں نے انسانیت کے لیے تین راستے بیان کیے۔ موجودہ عالمی نظام کے ساتھ چلتے رہنا، غلط نئے تجربات میں کھو جانا، یا خدائی نظام کی طرف واپسی اختیار کرنا جو عدل، احتساب اور دولت کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بناتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام صرف عقائد کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مکمل اخلاقی اور تہذیبی نظام ہے۔

انہوں نے عالمی تعاون کے لیے کئی نکات پیش کیے جن میں ظلم کے خلاف مشترکہ آواز اٹھانا، غزہ، کشمیر، روہنگیا اور سوڈان کے لیے یکساں بیانیہ تشکیل دینا، فکری اور سیاسی اشتراک، نوجوانوں، خواتین اور علما کی شمولیت اور عالمی پروپیگنڈا کے مقابلے کے لیے متبادل بیانیہ تیار کرنا شامل تھا۔

انہوں نے کہا کہ جدوجہد مشکل ضرور ہے مگر ناممکن نہیں۔ انہوں نے غیر مسلم مندوبین کی موجودگی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ انصاف کی کوئی سرحد نہیں اور انسانیت مشترک اقدار پر کھڑی ہے۔

اختتام پر انہوں نے کہا کہ یہ سیشن نئے عالمی تعلقات، حکمت عملیوں اور باہمی تعاون کی بنیاد رکھتا ہے۔ انہوں نے اسلامی تحریکوں کے درمیان تعاون، عالمی بحرانوں میں مشترکہ کردار اور طویل مدت کے لیے مؤثر ڈھانچے کی تشکیل سے متعلق کئی سوال بھی پیش کیے۔

حافظ نعیم الرحمان نے پاکستان میں ایک مشترکہ رابطہ دفتر قائم کرنے کی تجویز بھی پیش کی جو عالمی رابطوں اور حکمت عملی کا مرکز ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی اس اقدام کو آگے بڑھانے کے لیے تیار ہے اگر تمام مندوبین اس کی منظوری دیں۔

آخر میں انہوں نے عالمی سطح پر انصاف کی جدوجہد کی کامیابی کے لیے دعا کی اور تمام شرکا کا شکریہ ادا کیا۔

امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے مینارِ پاکستان پر ہونے والے اجتماع عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ جماعت اسلامی ملک میں نئے عام انتخابات کے اعلان تک کسی بھی الیکشن میں حصہ نہیں لے گی۔ جماعت اسلامی قوم پرست نہیں بنے گی اور صوبوں کو آپس میں لڑانے کی اجازت نہیں دے گی۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی آخری حد تک جدوجہد جاری رکھے گی۔ پاکستان کی جماعتوں میں نظم و ضبط کا بحران ہے اور فلسطین میں انسانیت کے خلاف جاری ظلم و ستم کے خلاف وقت آگیا ہے کہ سب متحد ہو کر آواز بلند کریں۔

انہوں نے مزید کہا کہ نظریہ پاکستان سے نفرت کرنے والا جماعت اسلامی کا نہیں ہو سکتا، ہم تقسیم کو قبول نہیں کریں گے اور سب کو سینے سے لگائیں گے۔ نظم و ضبط کے بغیر تحریکیں ہواؤں میں بکھر جاتی ہیں اور وقتی مقبولیت انسان کو تباہی کے دہانے پر کھڑا کر دیتی ہے۔ طاقت اجتماعیت میں ہے اس لیے ہمیں اجتماعیت کے ساتھ جڑ کر کام کرنا ہوگا۔

اجتماع کے دوران نیشنل یوتھ ایکسیلینس ایوارڈز کی خصوصی تقریب بھی منعقد کی گئی جس میں مختلف شعبوں میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے نوجوانوں کو اعزازات سے نوازا گیا۔ ایوارڈ شو کا مقصد پاکستان کی نوجوان نسل کی حوصلہ افزائی اور اُن باصلاحیت افراد کو سامنے لانا تھا جنہوں نے اپنی محنت اور صلاحیتوں کے ذریعے ملک کا نام روشن کیا۔ تقریب میں ملک بھر سے نوجوانوں نے شرکت کی اور مختلف کیٹیگریز میں ایوارڈز تقسیم کیے گئے۔

واضع رہے کہ معروف سوشل میڈیا کانٹینٹ کریٹرز طلحہ احمد اور محمد شیراز کو ان کی تخلیقی صلاحیت، مثبت اندازِ بیان اور معاشرے میں تعمیری پیغام عام کرنے پر خصوصی یوتھ ایکسیلینس ایوارڈز سے نوازا گیا۔ اسی طرح اسلام 360 ایپ کے بانی زاہد حسین چھیپا، عالمی شہرت یافتہ ویٹ لفٹر نوح دستگیر بٹ اور کوہ پیما شہروز کاشف کو بھی ایوارڈ دیا گیا۔