جماعت اسلامی کے مرکزی دفتر میں ہونے والی ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے خطے میں امن، استحکام، مسلم ممالک کے درمیان تعاون اور باہمی روابط کے فروغ کی ضرورت پر زور دیا۔
اس موقع پر حافظ نعیم الرحمان نے ایران کی قیادت اور عوام کو حالیہ سفارتی پیش رفت پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ایران نے مشکل حالات میں جس استقامت اور عزم کا مظاہرہ کیا، وہ پوری امتِ مسلمہ کے لیے حوصلہ افزا ہے، طاقت کے بجائے مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل کے حل کی کوششوں کو فروغ ملنا چاہیے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کے لیے غزہ اور لبنان میں فوری اور مکمل جنگ بندی ناگزیر ہو چکی ہے، خطے میں کشیدگی کا خاتمہ صرف اسی صورت ممکن ہے جب انسانی جانوں کے تحفظ کو ترجیح دی جائے اور تنازعات کے حل کے لیے مؤثر سفارتی اقدامات کیے جائیں۔
انہوں نے فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینیوں کو اپنی آزاد اور خودمختار ریاست قائم کرنے کا حق ملنا چاہیے، خطے میں دیرپا امن کے لیے مسئلہ فلسطین کا منصفانہ اور پائیدار حل ناگزیر ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی پورے خطے کے امن اور ترقی کو متاثر کر رہی ہے، اس لیے عالمی برادری کو تنازعات کے خاتمے اور انسانی بحرانوں کے حل کے لیے عملی کردار ادا کرنا چاہیے۔
ملاقات کے دوران ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مشکل اوقات میں ایران کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرنے پر پاکستان کی حکومت، عوام اور جماعت اسلامی کا شکریہ اد، پاکستان اور ایران کے درمیان برادرانہ تعلقات تاریخی، مذہبی اور ثقافتی بنیادوں پر استوار ہیں، جنہیں مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔
مزید پڑھیں: آزاد کشمیر میں مزید خونریزی برداشت نہیں، حکومت اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی بامعنی مذاکرات کریں، حافظ نعیم الرحمان
ایرانی سفیر نے خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کے مثبت اور تعمیری کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ اختلافات کے حل کے لیے مذاکرات، باہمی احترام اور سفارت کاری ہی مؤثر راستہ ہیں۔
ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ امتِ مسلمہ کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اسلامی ممالک کے درمیان اتحاد، یکجہتی، باہمی احترام اور تعاون کو مزید فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
فریقین نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان برادرانہ تعلقات کو مزید وسعت دینے، خطے میں امن کے قیام اور مسلم دنیا کو درپیش مسائل کے حل کے لیے مثبت رابطوں اور مشترکہ کوششوں کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا۔







