ملاقات کے دوران حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ قطر کی پالیسی ماضی میں افغانستان اور غزہ کے حوالے سے ہمیشہ مثبت اور تعمیری رہی ہے، جس سے عالمی سطح پر قطر کے وقار میں اضافہ ہوا ہے، اس موقع پر امید ظاہر کی کہ قطر پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری کشیدگی ختم کرنے میں ایک مصالحانہ کردار ادا کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ اس تنازعے سے دونوں ممالک کو نقصان پہنچ رہا ہے اور خطے کے مسلمان ممالک کو آپس کے اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت ہے، قطر کے امیر تمیم بن حمد آل ثانی کا مصالحانہ کردار ہمیشہ قابل ستائش رہا ہے اور اسی وجہ سے پاکستان کے عوام بھی امیر قطر کا احترام کرتے ہیں۔
ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ سفیر قطر کی مدد سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان عوامی سطح پر اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو فروغ دیا جائے تاکہ خطے میں امن و ترقی کے لیے عملی اقدامات کیے جا سکیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی قیادت اور عوام، خطے میں تنازعات کے حل کے لیے قطر کی مصالحتی پالیسی کی قدر کرتے ہیں اور امید ہے کہ قطر کی ثالثی سے خطے میں پائیدار امن قائم ہوگا۔







