وزیر اعظم شہباز شریف نے لندن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے کا مقصد صرف اور صرف باہمی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر کسی ایک ملک پر حملہ ہوتا ہے تو اسے دونوں پر حملہ تصور کیا جائے گا اور باہمی مشاورت سے اس کا جواب دیا جائے گا۔سعودی عرب کو پاکستان کا برادرانہ ملک قرار دیا اور کہا کہ اسلام آباد اور ریاض کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ ہم نے ان تعلقات کو ایک رسمی شکل دے دی ہے اور یہ معاہدہ دونوں ممالک کی عوام کی خواہشات کے مطابق ہے۔ ہر مسلمان کے دل میں حرمین شریفین کی عزت ہے اور ان کے تحفظ کے لیے جان کا نذرانہ دینے سے بھی دریغ نہیں کیا جائے گا۔
اپنی گفتگو میں وزیر اعظم نے نیویارک اور واشنگٹن کے دوروں کو بھی انتہائی کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ترک صدر رجب طیب اردوغان کی زیر صدارت غزہ سے متعلق اجلاس منعقد ہوا، جس میں حوصلہ افزا بات چیت ہوئی اور انہیں یقین ہے کہ اس کے مثبت نتائج جلد سامنے آئیں گے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ معرکہ حق میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے تاریخی کامیابی حاصل کی اور جنگ کے دوران پوری قوم اپنی مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑی رہی۔ پاکستان کی معیشت نے بنیادی استحکام حاصل کر لیا ہے اور اب ہم پائیدار ترقی کے لیے کام کر رہے ہیں۔

انہوں نے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ سیلاب نے تباہی مچائی، جس میں ایک ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہوئے، ہزاروں دیہات زیر آب آئے اور فصلوں و املاک کو شدید نقصان پہنچا، لیکن حکومت پرعزم ہے اور ان شاءاللہ ہم اس چیلنج سے نکل کر آگے بڑھیں گے۔
امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ سے ملاقات کے حوالے سے سوال کے جواب میں شہباز شریف نے کہا کہ واشنگٹن میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے انتہائی تعمیری اور خوشگوار ماحول میں ملاقات ہوئی، جس میں ٹرمپ نے پاکستان کے ساتھ معاشی تعاون بڑھانے کی یقین دہانی کرائی۔
وزیر اعظم نے امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سے پاکستان اور انڈیا کے درمیان جنگ بندی میں کردار ادا کرنے پر ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اگر یہ جنگ طول پکڑتی تو اس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ دنیا پر بھی پڑ سکتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں : کراچی میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے زخمی صحافی امتیاز میر انتقال کر گئے
شہباز شریف کے مطابق پاکستانی قوم نے امن کوششوں کے اعتراف میں صدر ٹرمپ کا نام نوبیل انعام کے لیے تجویز کیا کیونکہ انہوں نے دنیا بھر میں کشیدگی کم کرنے میں بھی کردار ادا کیا۔
وزیر اعظم نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ وہ اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر خارجہ پالیسی اور معیشت سمیت ہر اہم معاملے پر مشاورت کرتے ہیں اور دونوں ایک پیج پر ہیں۔
دہشت گردی سے متعلق بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ یہ ایک سنگین مسئلہ ہے، جسے ماضی میں نظر انداز کیا گیا، یہاں تک کہ دہشت گردوں کو رہا کر کے واپس آنے دیا گیا، جو ایک سنگین غلطی تھی۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ افواجِ پاکستان، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مل کر دہشت گردی کا خاتمہ کریں گے اور انشاءاللہ جلد کامیابی حاصل کریں گے۔







