کانفرنس میں ڈی جی ایف آئی اے ڈاکٹر عثمان انور، وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری اور سیکرٹری داخلہ خرم آغا سمیت اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ایف آئی اے کو جدید ٹیکنالوجی اور بہتر انتظامی ڈھانچے کے ساتھ ازسرنو تشکیل دے رہی ہے، اور توقع ہے کہ سال کے اختتام تک یہ ادارہ ایک نئی شناخت کے ساتھ زیادہ مؤثر انداز میں کام کر رہا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ریاستی اداروں کو مضبوط بنانے کی پالیسی، جسے ’ہارڈننگ دی اسٹیٹ‘ کا نام دیا گیا ہے، اس میں ایف آئی اے کو مرکزی حیثیت حاصل ہے،اس ادارے کو نہ صرف قانون نافذ کرنے والی ایک مضبوط قوت بنایا جائے گا بلکہ اسے وفاقی حکومت کی رٹ کو مؤثر بنانے میں بھی کلیدی کردار دیا جائے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایف آئی اے کے اندرونی نظام میں دیرینہ مسائل، خصوصاً ترقیوں اور سروس اسٹرکچر سے متعلق رکاوٹوں کو دور کیا جائے گا تاکہ کانسٹیبلز اور اسسٹنٹ سب انسپکٹرز سمیت تمام اہلکاروں کو ان کے حق کے مطابق ترقی کے مواقع میسر آئیں۔
انہوں نے کہا کہ ادارے کے دفاتر اور تھانوں کی حالت بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں جبکہ جدید گاڑیوں کی خریداری کے آرڈرز بھی جاری ہو چکے ہیں،ایف آئی اے اہلکاروں کو بہتر سہولیات فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عمل کیا جا رہا ہے اور کسی بھی بدعنوان عنصر کے لیے ادارے میں کوئی جگہ نہیں ہوگی، کرپشن نہ صرف اداروں کو کمزور کرتی ہے بلکہ عوام کے اعتماد کو بھی مجروح کرتی ہے، اس لیے اس کے خلاف بلا امتیاز کارروائی جاری رہے گی۔
انہوں نے ایف آئی اے کی بڑھتی ہوئی ذمہ داریوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ افرادی قوت 2008 کے ڈھانچے کے مطابق ہے، جو موجودہ دور کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ناکافی ہے۔ خاص طور پر امیگریشن، اینٹی کرپشن اور انسانی اسمگلنگ جیسے حساس شعبوں میں فوری طور پر مزید بھرتیوں کی ضرورت ہے۔
انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ ایف آئی اے کے شہدا کے اہل خانہ کے لیے خصوصی رہائشی پلاٹس دیے جائیں گے جبکہ ایک جامع ویلفیئر پیکیج بھی تیار کیا جا رہا ہے جس میں تعلیم، صحت اور دیگر بنیادی سہولیات شامل ہوں گی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد ایک ایسا مضبوط، جدید اور شفاف ادارہ تشکیل دینا ہے جو نہ صرف ملک کے اندر قانون کی بالادستی کو یقینی بنائے بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی پاکستان کے وقار کو مزید مستحکم کرے۔







