امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ سے فوجی اڈے پر حملے کے مجرم کی سزائے موت کو براہ راست نشر کرنے کے امکان سے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ سزائے موت کی منظوری دی جاچکی ہے، لیکن اسے عوام کے سامنے براہ راست دکھانے کے حوالے سے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

اس معاملے پر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی اظہارِ خیال کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں معلوم نہیں کہ محکمہ دفاع پینٹاگون ندال ملک کی سزائے موت کی لائیو اسٹریمنگ کرے گا یا نہیں، اگر سزائے موت کو براہ راست نشر بھی کیا گیا تو وہ اسے نہیں دیکھیں گے۔

اس سے قبل پینٹاگون کی جانب سے امریکی فوجی ندال ملک کی سزائے موت براہ راست نشر کرنے کے اعلان کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ دستیاب تفصیلات کے مطابق مجرم کو 3 دسمبر کو فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزائے موت دیے جانے کا شیڈول بتایا گیا ہے۔ تاہم صدر ٹرمپ کے تازہ بیان کے مطابق اس کارروائی کی براہ راست نشریات کے بارے میں فیصلہ حتمی نہیں ہوا۔

ندال ملک کو 2009 میں ٹیکساس کے فورٹ ہڈ فوجی اڈے پر فائرنگ کے واقعے میں سزا سنائی گئی تھی۔ اس حملے میں 13 افراد ہلاک اور 32 زخمی ہوئے تھے، جس کے بعد امریکی فوجی تنصیبات کی سیکیورٹی اور اہلکاروں کی ذہنی و عملی تیاری سے متعلق معاملات پر بھی بحث ہوئی تھی۔

فورٹ ہڈ حملہ امریکی فوجی تاریخ کے نمایاں واقعات میں شمار ہوتا ہے، کیونکہ اس میں ایک فوجی تنصیب کے اندر فائرنگ کے نتیجے میں متعدد اہلکار ہلاک اور زخمی ہوئے تھے۔ واقعے کے بعد حملہ آور کے خلاف قانونی کارروائی طویل عرصے تک جاری رہی اور بالآخر اسے سزائے موت سنائی گئی۔

سزائے موت کو براہ راست نشر کرنے کے معاملے نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے، جس میں سرکاری کارروائیوں کی شفافیت، سزا کے عوامی اظہار اور اس نوعیت کی نشریات کے اخلاقی پہلو زیرِ غور آسکتے ہیں۔ تاہم صدر ٹرمپ اور نائب صدر جے ڈی وینس کے بیانات کے مطابق اس بارے میں حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔

اب توجہ اس بات پر ہے کہ امریکی محکمہ دفاع سزائے موت کے طریقۂ کار اور ممکنہ براہ راست نشریات کے بارے میں کیا فیصلہ کرتا ہے۔ فی الحال 3 دسمبر کو فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزا دیے جانے کی اطلاع دی گئی ہے، جبکہ اسے لائیو نشر کرنے کا معاملہ غیر حتمی ہے۔