اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق یائر گولان نے ایک انٹرویو میں کہا کہ جنگ کے آغاز پر علی خامنہ ای کو نشانہ بنانے کا فیصلہ اسرائیل کے قومی مفادات کے مطابق نہیں تھا، ایک طویل عرصے سے اقتدار میں رہنے والے عمر رسیدہ رہنما کی موجودگی میں بعض ایسے عوامل ہوتے ہیں جو قیادت کی تبدیلی کے بعد پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال سے مختلف ہوتے ہیں. خامنہ ای کی عمر 86 برس تھی اور انہیں قتل کرنے سے اسرائیل کو وہ تزویراتی فائدہ حاصل نہیں ہوا جس کی توقع کی جا رہی تھی۔
یائر گولان کے مطابق خامنہ ای کے قتل کے بعد ایران میں حکومت کے خاتمے کے بجائے زیادہ سخت گیر اور پرتشدد عناصر کو تقویت ملی، اس کارروائی سے ایران کی قیادت کو کمزور کرنے اور حکومت کی تبدیلی کے اہداف حاصل نہیں ہوسکے، جبکہ اس کے نتائج اسرائیل کے لیے مزید مشکلات کا باعث بنے۔
اسرائیلی اپوزیشن رہنما نے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی جنگی حکمت عملی پر بھی تنقید کی۔ ان کے مطابق نیتن یاہو نے ایران کے خلاف ایسے اہداف مقرر کیے جو حقیقت پسندانہ نہیں تھے اور جنہیں حاصل کرنے میں اسرائیل ناکام رہا، اسرائیلی وزیراعظم نے ایک تاریخی موقع ضائع کردیا، کیونکہ جنگ کے ذریعے ایران میں حکومت کی تبدیلی کا ہدف حاصل نہیں کیا جاسکا۔
یائر گولان کے یہ بیانات اسرائیل کے اندر ایران جنگ کے نتائج اور حکومتی حکمت عملی پر جاری سیاسی بحث کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ کسی اہم رہنما کو نشانہ بنانے کا فیصلہ صرف فوری فوجی نتائج کی بنیاد پر نہیں، بلکہ اس کے طویل المدتی سیاسی اور تزویراتی اثرات کو سامنے رکھ کر کیا جانا چاہیے۔
دوسری جانب یائر گولان نے اسرائیل کی انتہائی مذہبی آرتھوڈوکس آبادی سے متعلق بھی متنازع بیان دیا۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق انہوں نے اس آبادی کو دوسروں پر انحصار کرنے والی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسے زیادہ پیداواری اور معاشی طور پر فعال بنانے کی ضرورت ہے۔ ان کے اس بیان پر بھی سیاسی بحث سامنے آئی ہے۔
گولان کے تازہ بیانات نے ایران جنگ کے مقاصد، اس کے نتائج اور اسرائیل کی علاقائی حکمت عملی سے متعلق سوالات کو دوبارہ نمایاں کردیا ہے۔ تاہم ایران کے خلاف جنگ کے مجموعی اثرات اور اسرائیلی حکومت کے فیصلوں پر مختلف سیاسی حلقوں کے مؤقف میں اختلاف پایا جاتا ہے۔







