اسلام آباد میں ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران ترجمان نے بتایا کہ امریکا اور ایران کے درمیان سات نکات پر بات چیت جاری ہے اور امریکا نے بھی ان نکات پر اپنا مؤقف شیئر کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان براہ راست رابطے پاکستان کی ثالثی اور سفارتی کوششوں کا نتیجہ ہیں، جب کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پہلے سے موجود ہے۔
سجاد حیدر خان نے کہا کہ زیرِ بحث بعض نکات اس یادداشت سے مطابقت رکھتے ہیں اور تنازع کے حل میں پاکستان سمیت دیگر اہم ممالک اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ پاکستان مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل چاہتا ہے اور ضرورت پڑنے پر ثالثی کی کوششیں دوبارہ شروع کر سکتا ہے۔
ترجمان دفتر خارجہ نے سعودی عرب میں طیبہ پاور ڈسٹری بیوشن اسٹیشن پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے سنگین اشتعال انگیزی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی عرب پر حوثی حملوں کی شدید مذمت کی ہے اور حرمین شریفین کے تقدس اور زائرین کی سلامتی کا ہر حال میں تحفظ یقینی بنایا جانا چاہیے۔
سجاد حیدر خان کا کہنا تھا کہ پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت، سلامتی اور تحفظ کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کے تحت رکن ممالک کی سلامتی ایک دوسرے کی سلامتی سے جڑی ہوئی ہے۔
ترجمان نے یہ بھی واضح کیا کہ سعودی عرب میں پاکستانی فوجی اہلکار پہلے سے موجود ہیں اور سعودی سرزمین کے دفاع میں اپنا کردار ادا کریں گے، تاہم وہ سرحد پار کرکے یمن میں حوثیوں کے خلاف حملے نہیں کریں گے۔
انہوں نے بتایا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی اسٹریٹجک، سیاسی اور دفاعی کمیٹی کا اجلاس بھی ہوا، جس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل نے شرکت کی۔ اجلاس میں علاقائی صورتِ حال اور اجتماعی دفاع کے لیے ممکنہ اقدامات پر غور کیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے افغانستان سے پھیلنے والی دہشت گردی کو ہمسایہ ممالک، خصوصاً پاکستان، کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ماسکو فارمیٹ اجلاس میں افغانستان سے جنم لینے والی دہشت گردی پر اپنے تحفظات واضح طور پر پیش کیے۔ افغان طالبان کے وفد نے گزشتہ اعلامیے میں دہشت گردی سے متعلق مؤقف برقرار رکھنے پر اتفاق نہیں کیا۔
سجاد حیدر خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے لیے افغانستان سے ہونے والی دہشت گردی محض الفاظ یا بیانات کا معاملہ نہیں بلکہ قومی سلامتی کا مسئلہ ہے۔ انہوں نے آئندہ ماسکو فارمیٹ اجلاس میں پاکستان کی شرکت سے متعلق کسی حتمی فیصلے کو قبل از وقت قرار دیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے بھارتی نقشوں میں متنازع جموں و کشمیر کے علاقوں کو شامل کرنے کی کوشش مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے یک طرفہ اقدامات علاقے کی متنازع حیثیت تبدیل نہیں کر سکتے۔
انہوں نے کہا کہ بھارتی نقشہ سازی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے منافی ہے اور اس سے کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت پر کوئی فرق نہیں پڑ سکتا۔
سجاد حیدر خان نے مزید بتایا کہ 2 اکتوبر کو بھارتی بارڈر سکیورٹی فورس کے ہاتھوں دو پاکستانی شہری جاں بحق ہوئے۔ اس واقعے پر پاکستان نے 3 اکتوبر کو بھارتی ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کیا اور فوری، شفاف اور قابلِ اعتماد تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ذمہ داران کے خلاف مناسب قانونی اور تادیبی کارروائی، تحقیقات کے نتائج سے آگاہ کرنے اور ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات پر بھی زور دیا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے غزہ میں تنازع کے خاتمے اور قابلِ اعتماد سیاسی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے بورڈ آف پیس میں شمولیت اختیار کی ہے۔
انہوں نے غزہ امن منصوبے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2735 پر مکمل عمل درآمد پر زور دیتے ہوئے کہا کہ فلسطینی عوام کو 1967 سے پہلے کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد اور خودمختار ریاست ملنی چاہیے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے بھی پاکستان کے ساتھ قریبی رابطہ کاری کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔







