اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت (ایف اے او) کے مطابق پاکستان میں اناج، چینی اور خوردنی تیل کی دستیابی نسبتاً زیادہ ہے، تاہم صحت مند غذا کے لیے ضروری پھلوں، سبزیوں اور دالوں کی دستیابی میں کمی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ملک میں خوراک کی مجموعی دستیابی کے باوجود متوازن اور صحت مند غذا کا حصہ بننے والی اشیا کی پیداوار اور رسد محدود ہے۔

رپورٹ کے مطابق صحت مند غذا کی بلند قیمتیں اور نسبتاً سستی خوراک کی آسان دستیابی کم آمدنی والے گھرانوں کے لیے متوازن غذا کا حصول مزید مشکل بنا دیتی ہیں۔ اس صورت حال کے اثرات بچوں اور خواتین کی صحت پر بھی نمایاں ہیں۔

قومی غذائی سروے 2018 کے مطابق پاکستان میں 40.2 فیصد بچے نشوونما میں کمی (سٹنٹنگ) کا شکار ہیں، جب کہ گلوبل نیوٹریشن رپورٹ کے مطابق 41 فیصد سے زائد خواتین خون کی کمی میں مبتلا ہیں۔ اس کے علاوہ بالغ آبادی میں ذیابیطس کی شرح بھی تقریباً 14 فیصد بتائی گئی ہے۔

پاکستان کو غذائی عدم تحفظ کے ساتھ خوراک کے ضیاع کے سنگین مسئلے کا بھی سامنا ہے۔ وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے مطابق ملک میں ہر سال تقریباً 20 ملین ٹن خوراک ضائع ہو جاتی ہے، جس کی مالیت لگ بھگ 4 ارب ڈالر ہے۔ گندم، چاول اور مکئی جیسی اہم فصلوں کے ضیاع سے ہی ہر سال تقریباً ایک ارب ڈالر کا نقصان ہوتا ہے۔

یوں ایک طرف ملک میں بڑی تعداد میں لوگ صحت مند غذا خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے، جب کہ دوسری جانب پیدا ہونے والی خوراک کا ایک بڑا حصہ صارفین تک پہنچنے سے پہلے یا استعمال سے قبل ضائع ہو جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس صورت حال میں صرف زرعی پیداوار بڑھانا مسئلے کا مکمل حل نہیں ہے۔

ایف اے او کے مطابق پاکستان کے زرعی شعبے کو ہر سال تقریباً 6.6 ارب ڈالر کی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔ ادارے کے اندازوں کے مطابق موجودہ وسائل کے بہتر استعمال اور خوراک کے نظام میں اصلاحات کے ذریعے صحت مند غذا تک رسائی بہتر بنائی جا سکتی ہے۔

اندازوں کے مطابق خوراک کے ضیاع میں 50 فیصد کمی صحت مند غذا کی قیمت میں تقریباً 8 فیصد کمی کا باعث بن سکتی ہے، جب کہ پھلوں اور سبزیوں کی پیداوار میں 25 فیصد اضافہ ان کی دستیابی تقریباً 12 فیصد تک بڑھا سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق پاکستان میں غذائی مسائل کا حل صرف اس بات پر منحصر نہیں کہ ملک میں کتنی خوراک پیدا ہوتی ہے، بلکہ یہ بھی اہم ہے کہ کون سی غذائیں پیدا کی جا رہی ہیں، ان میں سے کتنی ضائع ہوتی ہیں اور عام شہری کے لیے کون سی غذائیں قابلِ خرید اور آسانی سے دستیاب ہیں۔

صحت مند غذا تک رسائی بہتر بنانے کے لیے زرعی پیداوار میں اضافے کے ساتھ خوراک کے ضیاع میں کمی، پھلوں اور سبزیوں کی پیداوار بڑھانے اور متوازن غذا کو عام شہری کی پہنچ میں لانے کے لیے مؤثر اقدامات ضروری ہیں۔