جماعت اسلامی کے ترجمان کے مطابق رانا ثناء اللہ نے ٹیلی فونک گفتگو کے دوران لیاقت بلوچ کو بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف اپنے وعدے کے مطابق جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان سے ملاقات کے خواہش مند ہیں، رابطے میں دونوں جماعتوں کے درمیان موجود اختلافات دور کرنے اور عوامی مطالبات پر بات چیت آگے بڑھانے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ترجمان کے مطابق طے پایا ہے کہ دونوں قیادتوں کی ملاقات سے پہلے حکومت اور جماعت اسلامی کی مذاکراتی کمیٹیوں کا اجلاس ہوگا، اس اجلاس میں پیٹرولیم لیوی کے خاتمے کے مطالبے، عوام کو ریلیف دینے کے اقدامات اور معاشی معاملات پر تفصیلی گفتگو کی جائے گی، تاکہ مذاکرات کے لیے واضح ایجنڈا ترتیب دیا جا سکے۔
گفتگو کے دوران جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ نے کہا کہ وزیراعظم کی درخواست پر ہی جماعت اسلامی نے اپنے ’سپر لانگ مارچ‘ میں وقفہ کیا تھا، جماعت اسلامی عوام کو درپیش مہنگائی اور معاشی مشکلات کے خاتمے کے لیے اپنے مطالبات پر قائم ہے اور پیٹرولیم لیوی کا خاتمہ عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کرنے کی جانب اہم قدم ہوگا۔
لیاقت بلوچ نے واضح کیا کہ جب تک عوام کو بڑا ریلیف پیکج نہیں دیا جاتا، جماعت اسلامی کی تحریک جاری رہے گی۔ انہوں نے رانا ثناء اللہ کو بتایا کہ پیٹرولیم لیوی کے خلاف ملک بھر میں عوامی رابطہ مہم جاری ہے، جس کے تحت جلسے منعقد کیے جا رہے ہیں، محضر نامے پیش کیے جا رہے ہیں اور شہریوں کے دستخط جمع کرنے کی مہم بھی چلائی جا رہی ہے۔
جماعت اسلامی کا مؤقف ہے کہ پیٹرولیم لیوی کے خاتمے سے عوام پر ایندھن کے اخراجات کا بوجھ کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ دوسری جانب حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مجوزہ مذاکرات میں اس مطالبے کے ساتھ دیگر معاشی نکات پر بھی بات چیت متوقع ہے۔
حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان رابطوں میں تیزی کو مذاکراتی عمل آگے بڑھانے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم، مذاکراتی کمیٹیوں کے اجلاس، دونوں رہنماؤں کی ملاقات اور پیٹرولیم لیوی سے متعلق کسی حتمی فیصلے کی تفصیلات سامنے آنا ابھی باقی ہیں۔







