خبر ایجنسی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ روس اور یوکرین کے درمیان توانائی کے شعبے میں حملے روکنے کے لیے اتفاق ہوگیا ہے، اس سمجھوتے کے تحت دونوں ممالک توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنانے سے گریز کریں گے اور جنگ بندی فوری طور پر نافذ العمل ہوگی۔

توانائی کی تنصیبات پر حملے روکنے سے متعلق اس پیش رفت کو روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ میں کشیدگی کم کرنے کی ایک ممکنہ کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ جنگ کے دوران بجلی گھروں، توانائی کی تنصیبات اور دیگر اہم بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان نے شہریوں کی زندگیوں اور توانائی کی فراہمی کو متاثر کیا ہے۔

دوسری جانب روس کی طرف سے امریکی صدر کے اعلان کی تصدیق سامنے نہیں آئی، جس کے باعث مجوزہ جنگ بندی کی شرائط اور اس پر عمل درآمد سے متعلق صورتحال واضح نہیں ہوسکی۔ یہ بھی دیکھنا باقی ہے کہ دونوں ممالک توانائی کی تنصیبات پر حملے روکنے کے لیے کن اقدامات پر اتفاق کرتے ہیں اور جنگ بندی کی نگرانی کس طرح کی جائے گی۔

برطانیہ اور کینیڈا نے روس اور یوکرین کے درمیان توانائی کے شعبے میں جنگ بندی کے اعلان کا خیرمقدم کیا ہے۔ اس پیش رفت کو جنگ کے اثرات کم کرنے اور شہریوں کے لیے توانائی کی فراہمی کے تحفظ کی جانب ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے، تاہم اس کی عملی کامیابی کا انحصار دونوں فریقوں کی جانب سے معاہدے پر عمل درآمد پر ہوگا۔

ادھر یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یوکرین توانائی کی تنصیبات پر حملے روکنے کے لیے جنگ بندی کی حمایت کرتا ہے اور روس کو بھی اسی طرزِ عمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

زیلنسکی کے مطابق یوکرین امریکا سے انرجی سیزفائر کی تفصیلات ملنے کا انتظار کر رہا ہے۔ ان کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ کیف حکومت مجوزہ جنگ بندی کی حمایت تو کرتی ہے، تاہم اس کے طریقۂ کار اور شرائط کے بارے میں مزید وضاحت درکار ہے۔

روس اور یوکرین کے درمیان توانائی کے شعبے میں ممکنہ جنگ بندی کی پیش رفت پر عالمی توجہ مرکوز ہے۔ اگر دونوں ممالک اس سمجھوتے پر عمل درآمد کرتے ہیں تو اس سے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو مزید نقصان سے بچانے اور شہری آبادی کو درپیش مشکلات کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ تاہم روس کی باضابطہ تصدیق اور جنگ بندی کی تفصیلات سامنے آنے تک اس اعلان پر عمل درآمد کی صورتحال غیر واضح ہے۔