دھرنے کے مقام پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ملک میں صحت، تعلیم سمیت بنیادی سہولیات میسر نہیں، جبکہ حکومت نے عوام کے بنیادی حقوق پر ڈاکا ڈالا ہوا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ شہباز شریف حکومت نے 4 ہزار ارب روپے سے زائد پٹرولیم لیوی وصول کی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف سے سوال ہے کہ یہ رقم کہاں استعمال ہوئی؟
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومت اپنی نااہلی اور ناقص گورننس چھپانے کے لیے عوام پر بوجھ ڈال رہی ہے۔ قوم ایف بی آر کے افسران اور ان کی کرپشن کا بوجھ بھی اٹھا رہی ہے، جبکہ ایف بی آر اپنے اہداف پورے نہیں کرتا۔
حافظ نعیم الرحمان نے آئی پی پیز کے معاہدوں پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسے بجلی کے پیسے بھی ادا کیے جاتے ہیں جو پیدا ہی نہیں ہوتی۔ ان کے مطابق جماعت اسلامی کے دھرنے اس وقت 30 سے زائد مقامات پر جاری ہیں۔
کشمیر کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ یاسین ملک کا خط دیکھ کر انتہائی دکھ ہوا ہے اور بھارت انہیں بدترین عدالتی قتل کی طرف لے کر جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے یاسین ملک کے معاملے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ اگر پاکستان یاسین ملک کا مقدمہ نہیں لڑ سکتا تو اس کا مطلب ہے کہ ہم کشمیر کا مقدمہ کمزور کر رہے ہیں۔
امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کو بھارت کے ساتھ یاسین ملک کا مقدمہ لڑنا چاہیے۔







