وزیراعلیٰ ہاؤس کے باہر جماعت اسلامی کے جاری دھرنے کے 23ویں روز پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکومت مذاکرات کے لیے سنجیدہ، بااختیار اور ذمہ دار ٹیم بھیجے، بصورت دیگر احتجاجی تحریک کو مزید وسعت دی جائے گی۔
حافظ نعیم الرحمان نے بتایا کہ جماعت اسلامی کی جانب سے ملک کے مختلف علاقوں میں 20 سے 30 مقامات پر دھرنے جاری ہیں اور آنے والے دنوں میں ان احتجاجی مراکز کی تعداد اور سرگرمیوں میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کی مذاکراتی ٹیم اسلام آباد میں موجود ہے اور حکومت کے ساتھ آج مذاکرات متوقع ہیں، مذاکرات محض وقت گزارنے کے لیے نہیں بلکہ عوام کو حقیقی ریلیف دینے کے لیے ہونے چاہئیں۔
امیر جماعت اسلامی نے پٹرولیم لیوی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے دعویٰ کیا کہ حکومت نے لیوی کی مد میں عوام سے بھاری رقم وصول کی ہے، جس کا براہِ راست بوجھ عام شہریوں پر پڑ رہا ہے۔ ان کے مطابق مہنگائی کے موجودہ دور میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کر رہی ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے ایف بی آر کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ ٹیکس اہداف پورے کرنے میں ناکامی کا بوجھ بھی عوام پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ٹیکس وصولی کے نظام میں شفافیت لائی جائے اور کرپشن کا خاتمہ کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکمرانوں کو اپنی مراعات اور اخراجات پر بھی نظر ڈالنی چاہیے۔ اشرافیہ کو حاصل سہولیات اور سرکاری وسائل کے استعمال پر تنقید کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ عوام معاشی مشکلات سے دوچار ہیں جبکہ حکمران طبقے کی مراعات میں کمی نظر نہیں آتی۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کے احتجاج کا مقصد اقتدار کا حصول نہیں بلکہ عام آدمی کے مسائل کو اجاگر کرنا ہے۔ نوجوانوں سے اپیل کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ عوامی حقوق کی اس جدوجہد کا حصہ بنیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی حکومت کے ساتھ مذاکرات میں پٹرولیم لیوی کے خاتمے کے لیے قابلِ عمل تجاویز پیش کرے گی۔ ان کے مطابق شرح سود میں کمی، بینکوں سے متعلق حکومتی پالیسی پر نظرثانی اور آئی پی پیز کو ہونے والی ادائیگیوں میں کمی جیسے اقدامات سے حکومت کے مالی وسائل میں گنجائش پیدا کی جا سکتی ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ شرح سود میں ایک فیصد کمی سے حکومت کو سینکڑوں ارب روپے کی بچت ہوسکتی ہے، جبکہ مزید کمی اور آئی پی پیز کی ادائیگیوں پر نظرثانی کی صورت میں پٹرولیم لیوی ختم کرنے کے لیے مالی گنجائش پیدا کی جاسکتی ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے مذاکرات میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کیا اور معاملات کو طول دینے کی کوشش کی تو جماعت اسلامی احتجاجی سرگرمیوں میں مزید شدت لائے گی۔ ان کے مطابق اسلام آباد مارچ، پہیہ جام اور ٹرین مارچ سمیت مختلف آپشنز جماعت اسلامی کے زیرِ غور ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے پنجاب کی صورتحال پر بھی گفتگو کرتے ہوئے صوبے میں غربت، تعلیم اور صحت کے مسائل کو اجاگر کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سرکاری اسکولوں اور صحت کے شعبے سے متعلق حکومتی پالیسیوں پر عوام میں تشویش پائی جاتی ہے۔
سندھ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے صوبائی حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ صوبے میں طویل عرصے سے برسرِ اقتدار سیاسی قوتوں کو عوامی مسائل کے حل کے لیے جواب دینا ہوگا۔ انہوں نے کراچی سمیت سندھ میں شہری مسائل اور مبینہ کرپشن کا معاملہ بھی اٹھایا۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی نے عوام کے معاشی اور بنیادی مسائل کو سیاسی بحث کا مرکزی موضوع بنانے کی کوشش کی ہے اور ان کی جماعت عام شہری کے حقوق کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔
حافظ نعیم الرحمان نے یومِ ختمِ نبوت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نبی اکرم ﷺ سے محبت ہر پاکستانی کے دل میں موجود ہے۔ انہوں نے ختمِ نبوت کے تحفظ کے لیے کردار ادا کرنے والے علما اور مذہبی جماعتوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ معاشرے کے مسائل کا حل اسلامی اصولوں میں موجود ہے اور اسلام عدل و انصاف، مساوات اور حقوق العباد کا درس دیتا ہے۔
یومِ فضائیہ کے موقع پر حافظ نعیم الرحمان نے پاک فضائیہ کی خدمات کو بھی سراہا۔ انہوں نے ملکی دفاع اور قومی سلامتی کے لیے پاک فضائیہ سمیت افواجِ پاکستان کے مختلف شعبوں کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
تاہم انہوں نے کہا کہ ریاستی اداروں کو سیاسی عمل سے دور رہنا چاہیے۔ ان کے مطابق اداروں کی غیر جانب داری سے عوام میں ان کے احترام، اعتماد اور وقار میں مزید اضافہ ہوگا۔
حافظ نعیم الرحمان نے ایک بار پھر حکومت پر زور دیا کہ مذاکرات کو نتیجہ خیز بنایا جائے اور عوام کو ریلیف دینے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں، بصورت دیگر جماعت اسلامی اپنے احتجاجی لائحہ عمل کو مزید آگے بڑھانے کا حق محفوظ رکھتی ہے۔







