پاکستان میٹرز کے نامہ نگار فہد علی خان کےمطابق لاہور پریس کلب میں ’’میٹ دی پریس‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ جماعتِ اسلامی ہمیشہ اُن میڈیا ورکرز کے ساتھ کھڑی ہے، جو حق اور سچ کی آواز بلند کرتے ہیں، مگر افسوس کی بات ہے کہ جب میڈیا مالکان حکومت سے اربوں روپے کے اشتہارات لیتے ہیں تو وہ اپنے کارکنوں کے حقوق اور تنخواہوں پر توجہ نہیں دیتے۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کی سیاست کوریج یا میڈیا پر انحصار نہیں کرتی، بلکہ وہ ہر حال میں حق کی بات کرتی رہے گی۔
خطاب کے دوران حافظ نعیم الرحمان نے چھبیسویں آئینی ترمیم کو عدلیہ اور عوام کے مفاد کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس ترمیم کے ذریعے عدلیہ کی خودمختاری کو کمزور کیا گیا ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ خلفائے راشدین اپنے آپ کو عدالتوں کے سامنے پیش کریں اور آج ملک کے طاقتور لوگ قانون سے بالاتر ہوں۔ اس ترمیم کی حمایت میں پی ٹی آئی شریک نہیں ہوئی مگر مولانا نے اس کا ساتھ دیا، تاہم یہ ترامیم جلد ختم ہو جائیں گی۔
امیر جماعت نے عام انتخابات اور نتائج کے عمل پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ جب جمہوری نظام پر قدغن لگائی جائے تو حکومتیں عوامی ووٹ سے نہیں بلکہ فارم 47 سے بنتی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایم کیو ایم ایک بھی سیٹ نہیں جیتی مگر اسے 17 نشستیں دی گئیں، جبکہ انہیں خود ایک حلقے میں 700 ووٹ کم ہونے کے باوجود نشست دی گئی جسے انہوں اس نظام کے منہ پر مار دیا۔
معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ اسٹاک مارکیٹ ملک کی اصل حالت نہیں دکھا سکتی، اصل حقائق عوام کی بڑھتی غربت بے روزگاری اور مہنگائی ہے۔ ڈالر مصنوعی طور پر کنٹرول میں رکھا جا رہا ہے، زراعت تباہ ہو چکی ہے اور کسانوں کے ساتھ کیے گئے وعدے پورے نہیں کیے جا رہے۔ گندم 3900 روپے فی من خریدنے کا وعدہ کیا گیا مگر 2100 روپے میں خریدی گئی اور پھر مہنگے داموں فروخت کی گئی۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کرپشن کا ذریعہ بن چکا ہے اور غربت ختم ہونے کے بجائے مزید بڑھ رہی ہے۔
واضع رہے کہ حافظ نعیم الرحمان نے تجویز دی کہ اگر اسی بجٹ سے ملک میں آئی ٹی اور ہنرمندی کے پروگرام شروع کیے جائیں تو لاکھوں افراد خود کفیل ہوسکتے ہیں۔






