وزیراعظم شہباز شریف کی منظوری کے بعد کابینہ ڈویژن کی جانب سے باقاعدہ اعلامیہ جاری کیا گیا، جس میں کہا گیا ہے کہ یہ تعطیلات سال 2026 کی منظور شدہ سرکاری چھٹیوں کے شیڈول کے تسلسل میں دی جا رہی ہیں۔
نوٹیفکیشن کے مطابق تمام ایسے ادارے جو عام تعطیلات کے شیڈول پر عمل کرتے ہیں، مذکورہ تاریخوں کے دوران بند رہیں گے، جبکہ ضروری سروسز کے ادارے معمول کے مطابق کام جاری رکھیں گے۔
یاد رہے کہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی نے 17 مئی کو اعلان کیا تھا کہ ذوالحج 1447 ہجری کا چاند نظر آ گیا ہے، جس کے بعد ملک بھر میں عیدالاضحیٰ 27 مئی کو منائے جانے کا امکان ہے۔
کمیٹی کے مطابق چاند نظر آنے کی شہادتیں کراچی، سندھ، مردان، راولپنڈی، پشاور سمیت مختلف علاقوں سے موصول ہوئیں، جس کے بعد یکم ذوالحج کا آغاز 18 مئی سے ہوا۔
اس سے قبل اسپیس اینڈ اپر ایٹماسفیئر ریسرچ کمیشن نے بھی پیشگوئی کی تھی کہ عیدالاضحیٰ 27 مئی کو ہونے کا قوی امکان ہے۔
دوسری جانب عیدالاضحیٰ کی آمد کے ساتھ ہی ملک بھر کی منڈیوں میں قربانی کے جانوروں کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس نے عام شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔
پنجاب اور سندھ کی مویشی منڈیوں میں خریداروں کو سخت مالی دباؤ کا سامنا ہے۔ ایک درمیانے درجے کا صحت مند بکرا، جو گزشتہ سال ایک لاکھ سے سوا لاکھ روپے میں دستیاب تھا، اب ڈیڑھ لاکھ سے دو لاکھ بیس ہزار روپے تک فروخت ہو رہا ہے۔
خریداروں کا کہنا ہے کہ مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات نے جانوروں کی قیمتوں کو مزید بڑھا دیا ہے، جس کے باعث متوسط طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے۔
منڈیوں میں رش تو موجود ہے، تاہم خریدار احتیاط سے خریداری کر رہے ہیں۔ زیادہ تر خاندان صرف ضروری اخراجات پر توجہ دے رہے ہیں اور بڑے جانور خریدنے کے بجائے چھوٹے جانوروں یا اجتماعی قربانی کے آپشنز پر غور کر رہے ہیں۔
مویشی تاجروں کے مطابق چارے کی قیمتوں، ٹرانسپورٹ اخراجات اور انتظامی لاگت میں اضافے نے ان کے کاروبار پر بھی اثر ڈالا ہے، جس کے باعث قیمتیں مزید بڑھ گئی ہیں۔
مزید پڑھیں: گلگت بلتستان کے 1000 نوجوانوں کو آئی ٹی اور اے آئی ٹریننگ دینے کا فیصلہ
معاشی ماہرین کے مطابق عیدالاضحیٰ کے موقع پر لائیو اسٹاک سیکٹر پاکستان کی دیہی معیشت میں اربوں روپے کی سرگرمی پیدا کرتا ہے، جس سے کسانوں، ٹرانسپورٹرز اور مویشی تاجروں کو وقتی ریلیف ملتا ہے۔ مہنگائی اور کم قوتِ خرید کے باعث اس سال معاشی سرگرمی میں تیزی کے باوجود عام صارفین پر مالی دباؤ نمایاں ہے۔
پاکستان بیورو آف شماریات کے مطابق حالیہ مہینوں میں مہنگائی میں کچھ کمی ضرور آئی ہے، تاہم خوراک، توانائی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات اب بھی گھریلو بجٹ پر بھاری دباؤ ڈال رہے ہیں۔
شہری علاقوں میں خریداروں کا رجحان اس سال نسبتاً محتاط دکھائی دے رہا ہے۔ مارکیٹوں میں لوگ صرف بنیادی اشیاء کی خریداری کر رہے ہیں جبکہ غیر ضروری اخراجات سے گریز کیا جا رہا ہے۔
تاجروں کے مطابق اس بار خریداروں کی قوتِ خرید کم ہونے کے باعث بڑے پیمانے پر خریداری میں کمی دیکھی جا رہی ہے، جس سے مجموعی کاروباری سرگرمی بھی متاثر ہو رہی ہے۔
وفاقی حکومت کے اعلان کے بعد اب عوام عیدالاضحیٰ کی تیاریوں میں مصروف ہیں، تاہم مہنگائی کا دباؤ اس بار بھی شہریوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔







