شیخ وقاص اکرم نے حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ مبینہ طور پر سیاسی مخالفین، خصوصاً پی ٹی آئی، کو دبانے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔حکومتی نااہلی اور ناقص منصوبہ بندی کے باعث اربوں روپے ضائع ہوئے اور مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کیے جا سکے۔ عوام کے ٹیکس کا پیسہ سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔
دوسری جانب وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے اس تنقید کا سخت جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر 40 ارب روپے کی فائر وال ناکام ہوئی ہے تو اسے مزید بہتر بنا کر دوبارہ تیار کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر دوسری مرتبہ بھی نظام مؤثر ثابت نہ ہوا تو تیسری بار بھی بنایا جائے گا، کیونکہ قومی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ دنیا بھر کے ممالک سائبر حملوں اور سوشل میڈیا کے ذریعے ہونے والی مداخلت سے بچاؤ کے لیے جدید نظام اپناتے ہیں، اس لیے پاکستان بھی ڈیجیٹل سیکیورٹی کے حوالے سے پیچھے نہیں رہ سکتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس مقصد کے لیے اگر 40 ارب نہیں بلکہ 400 ارب روپے بھی خرچ کرنا پڑیں تو حکومت اس سے گریز نہیں کرے گی۔
مزید پڑھیں: 26 نومبر کیس: علیمہ خان اور ضامنوں کے وارنٹ گرفتاری جاری
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق فائر وال منصوبہ نہ صرف تکنیکی بلکہ سیاسی تنازع کا بھی مرکز بن چکا ہے۔ اپوزیشن اسے آزادی اظہار پر قدغن قرار دے رہی ہے، جبکہ حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام قومی سلامتی اور ڈیجیٹل خودمختاری کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سائبر سیکیورٹی کے مؤثر نظام کے لیے صرف سرمایہ کاری ہی نہیں بلکہ شفاف پالیسی، ماہرین کی شمولیت اور جدید ٹیکنالوجی کا درست استعمال بھی ضروری ہے، بصورت دیگر ایسے منصوبے تنقید کی زد میں آتے رہیں گے۔







