لاہور میں کارکنان جماعت سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی دین کے ساتھ ساتھ سیاست میں بھی بھرپور کردار ادا کرتی ہے اور اب ہمارا مقصد عوام کے ساتھ اتحاد کر کے فرسودہ نظام کو بدلنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی مذہب کا نام استعمال نہیں کرتی، بلکہ یہ ایک سیاسی جماعت ہونے کے ساتھ ساتھ دینی تحریک بھی ہے۔ ہم انتخابی اصلاحات کو بہتر بنائیں گے، رائے عامہ کو ہموار کریں گے اور صرف سلیکشن کی بات نہیں بلکہ پورا نظام بدلنے کی جدوجہد کریں گے۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ہم اصلاحِ معاشرہ کے لیے تعلیم اور تربیت دونوں پر زور دیتے ہیں۔ ابتدا میں ہمیں ایک مضبوط ٹیم کی ضرورت تھی، آج جماعت اسلامی کا کارکن کسی ایک دائرے تک محدود نہیں بلکہ ہر میدان میں خدمت انجام دیتا ہے۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی نے آئی پی پیز کے معاہدے میں عوام کی نمائندگی کی اور ہماری ہی جدوجہد سے لوگوں کو ریلیف ملا۔ خود حکومت کہتی ہے کہ اس سے خزانے کو 3600 ارب روپے کا فائدہ ہوا۔

انہوں نے تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ لوگ کہتے ہیں ہم دین کے بجائے حقوق کی بات کرتے ہیں، تو کیا دین ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کی تعلیم نہیں دیتا؟ ہم نوجوانوں کے لیے روزگار اور تعلیم کے مواقع پیدا کر رہے ہیں۔ جماعت اسلامی اپنی جدوجہد جاری رکھے گی اور سب کے لیے دروازے کھلے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نظام کی تبدیلی کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رکھیں گے، ڈسپلن ہماری جماعت کا سب سے بڑا نصب العین ہے۔ دوسری جماعتیں چند شکستوں کے بعد ختم ہو جاتی ہیں، مگر جماعت اسلامی ایک نظریے کا نام ہے جو ہمیں جوڑے رکھتا ہے۔

سوشلسٹ نظام کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ سرخ نظام چاہتے تھے اور ہم اسلامی نظام کے حامی ہیں، کیونکہ پاکستان اسی نظریے کی بنیاد پر قائم ہوا۔

بیوروکریسی پر بات کرتے ہوئے حافظ نعیم نے کہا کہ انگریز کا چھوڑا ہوا نظام آج بھی قائم ہے۔ بیوروکریسی کے فائلوں میں عوامی کام دفن ہو جاتے ہیں۔ انگریز نے بڑی چالاکی سے ایسا نظام بنایا کہ جس کے پاس چھڑی ہو، اختیار بھی اسی کے پاس ہو۔

انہوں نے سابق آرمی چیف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کراچی میں آرمی چیف تاجروں کو معیشت پر لیکچر دیتے رہے، قومی مفاد صرف ان کے مفاد کے مطابق سمجھا جاتا ہے اور چھڑی کے زور پر نظام چلایا جاتا ہے۔

کسانوں کے مسائل پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ڈی اے پی کھاد کی قیمتیں چار سے پانچ گنا بڑھ چکی ہیں اور پارلیمنٹ میں بیٹھے ارب پتی حکمران عوام کا دکھ سمجھ ہی نہیں سکتے۔

انہوں نے کہا کہ پانچ کروڑ سے زائد بچے اسکولوں سے باہر ہیں، عدلیہ اور پولیس دونوں اعتراف کرتی ہیں کہ نظام انصاف فراہم نہیں کرتا۔

حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ تھانے کی مرضی کے بغیر منشیات کیسے فروخت ہوتی ہیں؟ یہ سارا گلا سڑا نظام ہے، جب تک اسے نہیں بدلا جائے گا حالات نہیں بدلیں گے۔

اجتماعِ عام “بدل دو نظام” کے بارے میں بات کرتے ہوئے حافظ نعیم نے کہا کہ یہ محض ایک اجتماع نہیں بلکہ لوگوں کی تربیت کا عمل ہے۔ جو نوجوان اس میں شرکت کرتے ہیں، زندگی بھر جماعت اسلامی کے ساتھ وابستہ رہتے ہیں۔

انہوں نے کارکنان کو ہدایت دی کہ ابھی ووٹ کی نہیں بلکہ عوام کی آواز بننے کی ضرورت ہے، جب ہم ان کے مسائل اٹھائیں گے تو وہ خود ووٹ بھی دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ دوسری جماعتوں سے بحث میں وقت ضائع نہ کریں، وہ جو کر رہی ہیں کرنے دیں۔ فلسطین کے مسئلے پر ہم نے وہ سب کیا جو ہمارے بس میں تھا، پی ٹی آئی سے پوچھیں کہ انہوں نے فلسطین کے لیے کتنے احتجاج کیے؟

آخر میں انہوں نے کہا کہ ہم کسی کے کرائے دار نہیں، نہ ہمیں کوئی خرید سکتا ہے۔ فارم 46 اور 47 کے حوالے سے سب سے زیادہ بات جماعت اسلامی نے کی۔