ذرائع کے مطابق، آئینی ترمیمی بل کو جمعے کے روز سینیٹ میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ سینیٹ سے منظوری کے بعد اسے قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا تاکہ دونوں ایوانوں سے منظوری کا عمل مکمل کیا جاسکے۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ وزارتِ قانون اور وزارتِ پارلیمانی امور نے سینیٹ سیکریٹریٹ کو اس سلسلے میں باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا ہے، جب کہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ آئینی ترمیم آئندہ ہفتے تک دونوں ایوانوں سے منظور کروا لی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق، ترمیم پر مشاورت کے لیے ایک پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جائے گی جس میں سینیٹ اور قومی اسمبلی کے ارکان شامل ہوں گے۔ اس کمیٹی میں تمام سیاسی جماعتوں کی نمائندگی اور ان کی مرکزی قیادت کی شمولیت یقینی بنائی جائے گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم کا مجوزہ مسودہ (ڈرافٹ) کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے گا، اور کمیٹی سے منظوری کے بعد اسے باضابطہ طور پر پارلیمنٹ سے منظور کروایا جائے گا۔

واضح رہے کہ حکومت نے 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے فیلڈ مارشل کے عہدے کو آئینی حیثیت دینے کا فیصلہ کر لیا۔ ترمیم کے تحت آئین کے آرٹیکل 243 میں تبدیلی کی جائے گی تاکہ آرمی چیف کو دیے گئے فیلڈ مارشل کے عہدے کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا جا سکے۔