سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق ارکان قومی اسمبلی عالیہ کامران، محمد عثمان بادینی اور شاہدہ بیگم نے ملک خصوصاً بلوچستان میں قومی شاہراہوں کی خستہ حالی کی جانب توجہ دلائی، جس پر پارلیمانی سیکرٹری برائے مواصلات گل اصغر خان نے ایوان کو تفصیلی جواب دیا۔

توجہ دلاؤ نوٹس پر جواب دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے بلوچستان کے قومی شاہراہ نیٹ ورک کی مرمت کے لیے غیر معمولی فنڈز جاری کیے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں این ایچ اے کے روڈ نیٹ ورک کا حجم ملک بھر کے نیٹ ورک کا 40 فیصد (3,785 کلومیٹر) ہے اور پہاڑی جغرافیہ، طویل فاصلوں اور کم آبادی کے باعث اسے مسلسل نگہداشت درکار ہوتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ تین برسوں میں بلوچستان میں سڑکوں کی مرمت پر 11.9 ارب روپے خرچ کیے گئے، جب کہ اسی عرصے میں ملک بھر میں 120 ارب روپے سے زائد استعمال ہوئے۔

 پارلیمانی سیکرٹری کہ مطابق این ایچ اے سالانہ مرمتی منصوبہ انجینئرنگ سرویئز اور تکنیکی جائزوں کی بنیاد پر تیار کرتی ہے، جس کی منظوری نیشنل ہائی وے کونسل سے لی جاتی ہے۔

موجودہ مالی سال میں قومی سطح پر 31 ارب روپے مرمت کے لیے مختص کیے گئے ہیں، جب کہ بلوچستان کے لیے خصوصی طور پر کراچی–چمن اقتصادی راہداری سمیت اہم شاہراہوں کے لیے 100 ارب روپے اضافی فراہم کیے گئے ہیں۔

گل اصغر خان نے نشاندہی کی کہ اگرچہ این ایچ اے کے 40 فیصد روٹس بلوچستان میں واقع ہیں، لیکن صوبے سے ٹول ٹیکس کی وصولی بہت کم ہے، جس سے مرمت کے لیے مالی دباؤ بڑھ جاتا ہے۔

پارلیمانی سیکرٹری نے بتایا کہ این ایچ اے نے بلوچستان میں اہم قومی شاہراہوں پر 88 مرمتی منصوبے مکمل کیے، جن میں این 10پر 19 منصوبے 4.2 ارب روپے،این 25پر 22 منصوبے (292 کلومیٹر)7.9 ارب روپے،ہوشاب–ژوب راہداری پر 3 منصوبے 89 ملین روپے،گوادر–تربت–خضدار سیکشن پر 2 منصوبے،قلعہ سیف اللہ–لورالائی روٹ پر 10 منصوبے 1.4 ارب روپے،این 65پر متعدد کام 2.013 ارب روپے شامل ہیں۔

زیرِ تکمیل منصوبوں کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ مزید 34 منصوبے این ایچ اے کے پلان میں شامل ہیں۔این 10پر 9 نئے منصوبے،کراچی–کوئٹہ (N-25) پر 12 منصوبے،ہوشاب–پنجگور–سوراب روٹس پر 8 منصوبے،خضدار–ژوب سیکشن پر 5 منصوبے شامل ہیں ۔

گل اصغر خان نے کہا کہ بلوچستان کو سب سے زیادہ تناسب سے فنڈز دیے جا رہے ہیں۔ہمارا مقصد سال بھر روڈ مینٹیننس کو بہتر بنانا، صوبے میں روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور ملک کے لیے اسٹریٹجک رابطوں کو مضبوط بنانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ این ایچ اے ہر اس شاہراہ یا سیکشن کی تفصیلات فراہم کرنے کے لیے تیار ہے جس کے متعلق ارکان جاننا چاہیں۔ آپ ہماری ٹیم کے ساتھ بیٹھیں، ہم تمام انجینئرنگ رپورٹس اور پروجیکٹ ڈیٹا مکمل شفافیت کے ساتھ فراہم کریں گے۔