پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے لیاقت بلوچ نے کہا کہ لانگ مارچ کے دوران بڑے دعوے کیے گئے، مذاکرات بھی ہوئے، لیکن اس کے بعد ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ ہوگیا۔ گورنر راج کے خلاف عوامی احتجاج نہ ہونے سے غیر مقبول اقدامات کو تقویت ملی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی اپنی حکومت کے خاتمے پر عوام کو سڑکوں پر لاسکتی تھی تو گورنر راج کے معاملے پر بھی عوامی ردعمل سامنے آنا چاہیے تھا۔

لیاقت بلوچ کا کہنا تھا کہ ہر قیمت پر صوبے میں عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔ خیبر پختونخوا کے متاثرہ علاقوں میں امن کو اولین ترجیح دی جائے اور اس مقصد کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت، اداروں اور عوام کے درمیان بداعتمادی کی خلیج موجود ہے، جسے طاقت کے بجائے مکالمے سے ختم کیا جاسکتا ہے۔ پسند اور ناپسند کی بنیاد پر فیصلے کرنے کا ڈاکٹرائن ختم ہونا چاہیے۔

نائب امیر جماعت اسلامی نے خیبر پختونخوا میں معدنیات کے معاملے کو اہم ترین اور سنگین ترین مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ معدنی وسائل پر صوبے کی ملکیت کا حق تسلیم کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ معدنیات سے متعلق تمام معاملات شفاف انداز میں عوام کے سامنے لائے جائیں تاکہ صوبے کے وسائل کے استعمال اور ان سے حاصل ہونے والے فوائد کے بارے میں ابہام ختم ہو۔

لیاقت بلوچ نے پاکستان اور افغانستان کے تعلقات بہتر بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ افغان حکومت کو عالمی سازش کا حصہ نہیں بننا چاہیے اور دونوں ممالک کی سرزمین ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کو سفارتی بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے اپنے مسائل حل کرنے چاہییں۔

خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے عندیے کا خیرمقدم کرتے ہوئے لیاقت بلوچ نے کہا کہ جماعت اسلامی ان انتخابات میں بھرپور حصہ لے گی۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ امن و امان کی صورت حال کو جواز بنا کر صوبے کے کسی بھی علاقے کو بلدیاتی نمائندگی سے محروم نہ رکھا جائے۔

لیاقت بلوچ نے بتایا کہ جماعت اسلامی کا لانگ مارچ وزیراعظم کی درخواست پر مؤخر کیا گیا تھا۔ وزیراعظم سے ملاقات میں جماعت اسلامی کے امیر نے پیداواری لاگت کم کرنے، معیشت کی بہتری اور عوام کو روزگار فراہم کرنے کے مطالبات پیش کیے تھے۔

ان کے مطابق حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات کے لیے کمیٹیاں تشکیل دی گئی ہیں اور مذاکراتی کمیٹی کا اجلاس کل ہوگا۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت کی جانب سے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کا اعلان نہ کیا گیا تو جماعت اسلامی نومبر کے وسط میں دوبارہ لانگ مارچ شروع کرے گی۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی سے مذاکرات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، گورنر کے پی

لیاقت بلوچ نے کہا کہ آئی پی پیز اور لیویز بھتے کے خلاف عوامی احتجاج جاری ہے اور جماعت اسلامی اپوزیشن میں فرنٹ لائن پر اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔

نائب امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ان کی جماعت نے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی تشکیل کے وقت بھی مخالفت کی تھی اور 26ویں و 27ویں آئینی ترامیم کی بھی مخالفت کی۔

ان کا کہنا تھا کہ اب 28ویں آئینی ترمیم کی باتیں بھی سامنے آرہی ہیں اور ہائبرڈ نظام کو تقویت دینے کی کوشش کی جارہی ہے، جس کی جماعت اسلامی مخالفت کرتی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی کی جدوجہد آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے عوام کو ریلیف دلانے کے لیے جاری رہے گی۔