میڈیا گروپس کا مؤقف ہے کہ تحقیقاتی خبر شائع کرنے سے قبل متعلقہ شخص سے باقاعدہ اجازت لینے کی شرط سنسرشپ کے مترادف ہے، جس کے باعث صحافتی اداروں کی بندش کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
یہ صورتحال انڈیا میں سامنے آئی ہے، جہاں 2014 میں وزیراعظم نریندر مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے صحافتی آزادی پر سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔ اب 21 بڑے نیوز پبلشرز، جن میں مکیش امبانی اور گوتم اڈانی جیسے ارب پتیوں کے میڈیا ادارے بھی شامل ہیں، اس قانون کے خلاف قانونی کارروائی کا حصہ بن گئے ہیں۔
ڈیجیٹل نیوز پبلشرز ایسوسی ایشن کی وکیل مادھوی گورڈیا دیوان کا کہنا ہے کہ یہ قانون خبر کے بنیادی تصور ہی کو تبدیل کررہا ہے اور اس کے ذریعے حکومت کو صحافیوں کے ذرائع تک رسائی حاصل ہوسکتی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر خبر شائع کرنے سے پہلے متعلقہ شخص سے اجازت لینا لازمی قرار دیا گیا تو نیوز رومز بند ہوجائیں گے اور یہ نظام مکمل طور پر پیشگی سنسرشپ میں تبدیل ہوجائے گا۔
مودی حکومت کے اس پرائیویسی قانون کے خلاف یہ اب تک کا سب سے بڑا اور اہم قانونی چیلنج ہے۔ اس سے قبل آزادی اظہارِ رائے کے لیے کام کرنے والے کارکنان اور میڈیا اداروں کے گروپس ہی اس قانون کو عدالت میں چیلنج کرچکے تھے۔







