لندن اسٹاک ایکسچینج میں درج میٹلن انرجی اینڈ میٹلز اور شیل نے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی فراہمی کے لیے پانچ سالہ پابند معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ معاہدے کے تحت شیل گلوبل ایل این جی لمیٹڈ ہر سال چھ ایل این جی کارگو فراہم کرے گی، جو تقریباً 60 کروڑ مکعب میٹر قدرتی گیس کے برابر ہیں۔
سپلائی 2027 میں شروع ہوگی اور زیادہ تر شیل کے امریکی ایل این جی پورٹ فولیو سے آئے گی۔ یہ گیس یونان یا دیگر یورپی منڈیوں کو ورٹیکل گیس کوریڈور کے ذریعے پہنچائی جا سکے گی، جو یونان کو وسطی یورپ اور یوکرین سے جوڑتا ہے۔
میٹلن کے مطابق اس معاہدے سے اس کے طویل مدتی گیس سپلائی پورٹ فولیو کو مضبوطی ملے گی اور مختلف ممالک کی طلب کے مطابق گیس بھیجنے کی تجارتی لچک حاصل ہوگی۔ دونوں کمپنیوں نے معاہدے کی مالی مالیت اور قیمتوں کی شرائط ظاہر نہیں کیں۔
اسی دوران سٹی بینک کے تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں نئی کشیدگی اور ایل این جی تنصیبات کو ممکنہ نقصان کے خدشات کے باعث 2027 میں یورپی گیس کی قیمتوں میں اچانک اضافہ ہو سکتا ہے۔
بینک کے اندازے کے مطابق ڈچ ٹی ٹی ایف کی سرمائی 2026-27 کی قیمتیں تین مختلف صورتوں میں یہ رہ سکتی ہیں۔
تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ مشرق وسطیٰ مییں کشیدگی مزید پھیل سکتی ہے، اس کا دورانیہ بھیی بڑھ سکتا ہے۔
یاہو فنانس کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ چاہتا ہے کہ کشیدگی بڑھنے کی صورت میں ایل این جی قیمت 85 یورو فی میگاواٹ تک برقرار رہنی چاہیے۔ اگر پلانٹس بند ہوجائیں تو تقریباً 154 یورو فی میگاواٹ آور پر برقرار رہے اور کشیدگی نہ بڑھنے کی صورت میں 60 سے 70 یورو فی میگاواٹ آور رہنی چاہئے۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز کے قریب پاکستان کے لیے ایل این جی لے جانے والے ٹینکر کو نشانہ بنایا گیا، بلوم برگ
دونوں امکانات کو ملا کر سٹی نے کشیدگی کی صورت میں وزنی اوسط قیمت تقریباً 103 یورو لگائی ہے، جبکہ تجزیے کے وقت قیمت تقریباً 95 یورو تھی۔
سٹی نے اس جانب بھی توجہ دلائی کہ 2028 کے ٹی ٹی ایف کنٹریکٹس کی قیمتیں گزشتہ تین ماہ میں تقریباً 60 فیصد بڑھی ہیں، جو اتنی دور کے کنٹریکٹس کے لیے غیر معمولی ہے۔ ان قیمتوں کی سطح روس یوکرین جنگ کے بعد 2022 میں دیکھی گئی سطح کے قریب پہنچ گئی ہے۔
بینک کے مطابق مارکیٹ شاید اس امکان کو قیمتوں میں شامل کر رہی ہے کہ ایل این جی لیکویفیکشن تنصیبات کو نقصان پہنچے اور وہ مہینوں یا برسوں تک بند رہیں۔ مارکیٹ کی قیمتیں تقریباً 25 فیصد امکان ظاہر کرتی ہیں کہ ایسی تنصیبات نشانہ بنیں۔ تاہم سٹی نے سوال اٹھایا کہ آیا مارکیٹ اس خطرے کا درست اندازہ لگا رہی ہے، خاص طور پر ایران اور قطر کے تعلقات میں بہتری کے پیشِ نظر، اور ساتھ ہی خبردار کیا کہ صورتحال غیر یقینی ہے۔
سٹی کے مطابق اگر شدید سردی یا پولر ورٹیکس آیا تو امریکی بینچ مارک ہنری ہب میں یورپی ٹی ٹی ایف کے مقابلے میں زیادہ اضافے کی گنجائش نظر آتی ہے۔ سرمائی ہنری ہب کی قیمتیں تیزی سے گری ہیں، جبکہ سٹے بازوں کی پوزیشننگ 2020 کے آغاز کے بعد کم ترین سطحوں میں شمار ہوتی ہے۔
بینک کے مطابق قطر، سعودی عرب اور چین کی سفارتی کوششیں اور اسرائیلی انتخابات کی پیش رفت قیمتوں کے رجحان پر اثر انداز ہونے والے اہم عوامل ہیں۔








