این سی سی آئی اے نے 19 اکتوبر کو بتایا تھا کہ لاہور سے تین پاکستانی شہریوں کو گرفتار کیا گیا ہے، جن پر الزام ہے کہ وہ کینیڈا میں مقیم چار انڈین شہریوں کے ساتھ مل کر ’سنتھیٹک آئیڈنٹیٹی فراڈ‘ میں ملوث تھے۔
سنتھیٹک آئیڈنٹیٹی فراڈ سائبر جرائم کی ایک قسم ہے، جس میں حقیقی افراد کی چوری شدہ ذاتی معلومات، مثلاً سوشل سکیورٹی نمبر، تاریخ پیدائش یا شناختی دستاویزات کے کچھ حصوں کو جعلی تصاویر اور فرضی کوائف کے ساتھ ملا کر ایک نئی جعلی شناخت بنائی جاتی ہے۔ بعد ازاں اس شناخت کو مالیاتی اداروں کو دھوکہ دینے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
اس کیس کی تفتیشی ٹیم میں شامل این سی سی آئی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر وقاص سعید نے خبر رساں ادارے بی بی سی اردو کو بتایا کہ مبینہ فراڈ کی مالیت لاکھوں کینیڈین ڈالرز تک پہنچ سکتی ہے۔ ان کے مطابق اس گروہ نے کینیڈا کے کئی معروف مالیاتی اداروں کو نشانہ بنایا، جن میں رائل بینک آف کینیڈا سب سے زیادہ متاثر ہوا۔ پی سی فنانشل، ڈیژاردینز اور ٹورنٹو ڈومینین بینک بھی مبینہ طور پر متاثرہ اداروں میں شامل ہیں۔
وقاص سعید کے مطابق تینوں پاکستانی ملزمان کو عدالت میں پیش کرنے کے بعد ان کا 14 روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کیا گیا تھا۔ ملزمان کے قبضے سے برآمد ہونے والے ڈیجیٹل مواد کی تکنیکی رپورٹس تیار کرلی گئی ہیں، جن کی بنیاد پر چالان مجاز عدالت میں جمع کرایا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس بین الاقوامی گروہ کے خلاف کارروائی اوپن سورس انٹیلیجنس سے حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد پر شروع کی گئی۔ بعد ازاں تکنیکی ذرائع سے ملزمان کا سراغ لگایا گیا اور عدالت سے سرچ اور ضبطی کے وارنٹ حاصل کرنے کے بعد گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں۔
وقاص سعید کے مطابق متعدد شکایات سامنے آنے کے بعد کینیڈین بینکوں نے بھی اس گروہ کے خلاف تحقیقات شروع کی تھیں، جس کے بعد پاکستانی ادارے بھی اس معاملے کی تفتیش میں شامل ہوئے۔
این سی سی آئی اے نے ابتدائی تفصیلات ایک پریس کانفرنس میں جاری کی تھیں، جس میں تینوں گرفتار پاکستانی ملزمان کو چہرے ڈھانپ کر میڈیا کے سامنے پیش کیا گیا۔ اس موقع پر این سی سی آئی اے لاہور کے ایڈیشنل ڈائریکٹر عاطف امیر نے دعویٰ کیا تھا کہ گرفتار افراد کینیڈا میں مقیم چار انڈین شہریوں کے ساتھ مل کر مبینہ فراڈ کرتے تھے۔
عاطف امیر کے مطابق کینیڈا میں موجود افراد حقیقی اور جعلی معلومات کو ملا کر پاسپورٹس اور تصاویر جمع کرتے اور یہ تفصیلات پاکستان میں موجود ملزمان کو بھیجتے تھے۔ پاکستانی ملزمان ان دستاویزات کی مدد سے کینیڈین بینکوں میں اکاؤنٹس کھولتے تھے۔
ان کا دعویٰ تھا کہ بینکوں کی جانب سے شناخت کی تصدیق کے لیے تصویر مانگے جانے پر ملزمان ’ڈولفن آنٹی‘ نامی سافٹ ویئر استعمال کرتے تھے، جس کے ذریعے تصویر کی تصدیق کا عمل مکمل کیا جاتا اور بینک اکاؤنٹ کھل جاتا تھا۔
عاطف امیر کے مطابق اکاؤنٹ کھلنے کے بعد کریڈٹ کارڈز جاری کروائے جاتے، جو کینیڈا میں موجود گروہ کے دیگر ارکان کو موصول ہوتے تھے۔ وہ ان کارڈز سے خریداری اور دیگر لین دین کرتے اور کارڈ کی مقررہ حد استعمال ہونے کے بعد اسے پھینک دیتے تھے۔ بینکوں کی جانب سے واجب الادا رقم کی وصولی کے لیے رابطہ کرنے پر معلوم ہوتا کہ اکاؤنٹ جعلی شناخت کے ذریعے کھولا گیا تھا۔
این سی سی آئی اے لاہور میں 14 اکتوبر کو درج ہونے والی ایف آئی آر کے مدعی ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر رضوان صابر ہیں۔ ایف آئی آر کے مطابق اس معاملے کی باقاعدہ انکوائری 9 ستمبر کو شروع ہوئی تھی، جبکہ اوپن سورس انٹیلیجنس سے حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد پر ایک ماہ اور پانچ روز بعد مقدمہ درج کیا گیا۔
ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ اس مبینہ فراڈ سے نہ صرف ان شہریوں کو نقصان پہنچا جن کی ذاتی معلومات استعمال کی گئیں بلکہ ان مالیاتی اداروں کو بھی مالی نقصان ہوا جن کے ہاں جعلی دستاویزات کے ذریعے اکاؤنٹس کھولے گئے۔
دستاویز کے مطابق تینوں پاکستانی ملزمان کو لاہور کے علاقے انجینیئرز ٹاؤن سے گرفتار کیا گیا اور ان کے قبضے سے چار لیپ ٹاپ اور موبائل فون ضبط کیے گئے۔ ابتدائی جانچ کے دوران ان آلات سے کینیڈین شہریوں کے پاسپورٹس کی متعدد تصاویر اور نامعلوم افراد کے ساتھ ہونے والی گفتگو بھی ملی۔
ایف آئی آر میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ زیرِ حراست ملزمان نے تفتیش کے دوران بتایا کہ وہ گزشتہ 18 ماہ سے اس مبینہ فراڈ میں ملوث تھے اور کینیڈا میں موجود ان افراد سے رابطے میں تھے جو انہیں جعلی شناختی دستاویزات فراہم کرتے تھے۔ ان دستاویزات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے تیار کردہ تصاویر اور فرضی کوائف والے پاسپورٹس بھی شامل تھے۔
ایف آئی آر کے مطابق ملزمان ان دستاویزات کی مدد سے عارضی ای میل ایڈریس بناتے اور مختلف کینیڈین بینکوں میں اکاؤنٹس کھلواتے تھے۔ ان میں ویلز فارگو اور رائل بینک آف کینیڈا کے نام بھی شامل کیے گئے ہیں۔
دستاویز میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ اکاؤنٹس کی تصدیق کے لیے جعلی تصاویر استعمال کی جاتی تھیں، جبکہ اکاؤنٹس کھلنے کے بعد کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈز ان پتوں پر بھیجے جاتے تھے جہاں سے دیپ سنگھ اور دیگر افراد انہیں وصول کرتے تھے۔
ایف آئی آر کے مطابق مبینہ فراڈ سے حاصل ہونے والی رقم ڈیجیٹل والیٹس، کرپٹو کرنسی اور حوالہ نیٹ ورکس کے ذریعے پاکستان منتقل کی جاتی تھی۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ اس پورے عمل کا ایک حصہ پاکستان میں بیٹھ کر انجام دیا جاتا تھا۔







