29 اکتوبر کو جاری ہونے والے عدالتی ڈگری کے مطابق لاہور فیملی کورٹ کے جج زاہد بشیر نے ماہناز کی جانب سے شادی ختم کرنے کی درخواست منظور کر لی۔
ماہناز نے 22 جون کو خلع کے لیے درخواست دائر کی تھی، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ وہ اور ان کی بیٹیاں گزشتہ دو دہائیوں سے شدید ذہنی اذیت کا سامنا کر رہی ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ شوہر کی جانب سے مالی معاونت نہ ملنے کے باعث وہ گھر کے اخراجات خود برداشت کرتی رہی ہیں۔
درخواست کے مطابق ماہناز اور ان کے اہل خانہ نے معمر رانا کے رویے کو بہتر بنانے کے لیے کئی مرتبہ کوششیں کیں، تاہم مبینہ طور پر انہوں نے نشے کی عادت کے علاج یا پرتشدد رویے کو ترک کرنے سے انکار کیا۔

ماہناز نے اپنی درخواست میں اپنے اور بیٹیوں کے ساتھ مبینہ جسمانی اور ذہنی تشدد کو شادی ختم کرنے کی وجوہات میں شامل کیا تھا۔ ان کی ایک بیٹی کو اس مقدمے میں گواہ بھی نامزد کیا گیا تھا۔
عدالت کی جانب سے فیصلہ سنانے سے قبل دونوں فریقین کو متبادل طریقۂ حل تنازعات (اے ڈی آر) کے تحت مصالحت کے لیے طلب کیا گیا تھا تاکہ معاملہ باہمی رضامندی سے حل کیا جا سکے۔
لاہور کے اے ڈی آر سینٹر تھری کی جانب سے جاری خط کے مطابق معمر رانا مصالحتی کارروائی میں شریک ہوئے، تاہم ماہناز نے اس عمل میں حصہ لینے سے انکار کر دیا۔ اس کے بعد معاملہ دوبارہ فیملی کورٹ کو بھجوا دیا گیا۔







