مکمل کنٹرول حاصل کرنے کے لیے ڈیموکریٹس کو سینیٹ میں خالصتاً چار نشستوں کا اضافہ درکار ہے۔ ایوان میں اکثریت کے لیے کم از کم 218 نشستیں چاہییں۔ تاریخی طور پر 1946 کے بعد صدر کی جماعت وسط مدتی انتخابات میں ایوان میں اوسطاً 26.5 نشستیں ہارتی رہی ہے۔
امریکی جریدے گارجین کی ایک رپورٹ کے مطابق ریپبلکنز ڈیموکریٹس کی حمایت کے بغیر ایوان سے قانون منظور نہیں کرا سکیں گے۔ ڈیموکریٹس انتظامیہ کی تحقیقات، دستاویزات اور گواہی کے مطالبے کر سکیں گے۔ ان پر اپنے حامیوں کی طرف سے ٹرمپ کے مواخذے کا دباؤ آ سکتا ہے۔
ایوان کے اقلیتی رہنما حکیم جیفریز کا کہنا ہے کہ مواخذے کے بارے میں کوئی امکان مسترد نہیں کیا جاسکتا، جبکہ ریپبلکن اکثریتی رہنما اسٹیو اسکیلیس کا کہنا ہے کہ پہلے ہی دن اس کی کوشش ہوگی۔
اگر ڈییموکریٹس جیت گئے تو سینیٹ کابینہ، سفیروں اور وفاقی ججوں (بشمول سپریم کورٹ کے نامزد افراد) کی توثیق ضروری ہے، اس لیے ڈیموکریٹس کئی تقرریاں روک یا تاخیر کا شکار کر سکیں گے اور قانون سازی پر وائٹ ہاؤس کو مذاکرات پر مجبور کر سکیں گے۔
اگر ایک یا دونوں ایوان ری پبلکنز کے پاس رہیں مگر اکثریت کم ہو جائے تو حکومت چلانا مشکل ہو سکتا ہے، خاص طور پر جب قانون سازی کے لیے پارٹی کے تقریباً تمام ارکان کی حمایت چاہیے ہو۔
ڈیموکریٹس کن تحقیقات کا اشارہ دے رہے ہیں؟
ایوان کی نگران کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رابرٹ گارسیا ٹرمپ اور اس کے خاندان کے احتساب کی بات کررہے ہیں وہ اسے پہلی ترجیح قرار دیتے ہیں، جبکہ جیمی ریسکن نے جیرڈ کشنر اور ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر کے کاروباری معاملات کی معلومات مانگی ہیں۔
دوسرا سب سے اہم ایپسٹین فائلیں ہیں جو محکمہ انصاف نے قانونی مہلت کے بعد جاری کی ہیں مگر 60 لاکھ میں سے تقریباً 35 لاکھ صفحات ہی۔ بھاری ترامیم اور متاثرین کے ناموں کے افشا ہونے پر دونوں جماعتوں میں تشویش ہے۔
پینٹا گون میں جیسن کرو دفاعی رقوم کے ٹرمپ خاندان سے منسلک کمپنیوں کی طرف جانے کی رپورٹوں کی تحقیقات کی بات کررہے ہیں۔
اگرامریکی سیاسی تاریخ کا جائزہ لیں تو نتیجہ واضح ہوجائے گا۔2018 میں، ٹرمپ کی پہلی مدت کے وسط میں، ڈیموکریٹس نے ایک ’نیلی لہر‘ کے ساتھ ایوانِ نمائندگان پر قبضہ کر لیا۔

ایوان کی کمیٹیوں نے فوری طور پر درجنوں تحقیقات شروع کر دیں، جن میں ٹرمپ کے کاروباری معاملات، روس سے متعلق تحقیقات کے سلسلے میں ان کا طرزِ عمل اور مفادات کے ممکنہ ٹکراؤ شامل تھے۔
2018 کے وسط مدتی انتخابات کے ایک سال سے کچھ زیادہ عرصے بعد، اور بائیں بازو کی جانب سے کئی مہینوں تک مواخذے کے مطالبات کے بعد، ایوان نے زیادہ تر پارٹی خطوط پر ووٹنگ کرتے ہوئے ٹرمپ کے مواخذے کی منظوری دے دی۔
ڈیموکریٹس نے ٹرمپ پر الزام لگایا کہ انہوں نے یوکرین پر دباؤ ڈالا کہ وہ جو بائیڈن کے بارے میں منفی خبریں گھڑے، تاکہ آئندہ صدارتی انتخاب میں انہیں فائدہ پہنچے، اور پھر کانگریس کی نگرانی کو روکا۔ بعد ازاں ریپبلکن اکثریت والی سینیٹ نے ٹرمپ کو مواخذے کے دونوں آرٹیکلز سے بری کر دیا۔
2021 میں ٹرمپ کا دوسری بار مواخذہ ہوا، اس بار 6 جنوری کو امریکی کیپیٹل پر حملے کو اکسانے کے الزام میں، اور اس بار بھی وہ بری ہو گئے۔
گزشتہ حالات کو دیکھتے ہوئے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کے لیے کیا مشکلات انتظار کررہی ہیں۔







