نجی نشریاتی ادارے سٹی 42 کے مطابق آئی جی پولیس غلام نبی میمن نے ای چالان سسٹم سے متعلق رپورٹ وزیراعلیٰ سندھ کو پیش کی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ ای ٹکٹنگ سسٹم کے تحت 35 سرکاری گاڑیوں کو ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر چالان کیا گیا۔ ان خلاف ورزیوں میں سیٹ بیلٹ نہ باندھنا، ریڈ سگنل جمپ کرنا، ٹینٹڈ گلاسز اور ڈرائیونگ کے دوران موبائل فون کا استعمال شامل ہے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ پولیس کی سرکاری گاڑی SPE-950 کو سیٹ بیلٹ خلاف ورزی پر چالان کیا گیا۔ ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ نے وزیراعلیٰ کو آگاہ کیا کہ لیاری ایکسپریس وے پر 28 اکتوبر کو دوپہر 1 بج کر 36 منٹ پر پولیس کی گاڑی کا پہلا ای چالان جاری کیا گیا تھا، جب ڈرائیور نے دو مقامات پر سیٹ بیلٹ نہیں باندھی تھی۔
مزید پڑھیں: سڑکیں کچے سے بدتر اور جرمانے عالمی معیار کے ہیں، ای چالان سسٹم کا از سر نو جائزہ لیا جائے: امیر جماعتِ اسلامی کراچی
وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ پولیس کا جدید ای ٹکٹنگ سسٹم مؤثر ثابت ہو رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ تمام شہری قانون کے برابر ہیں اور قانون پر عمل درآمد ہر صورت یقینی بنایا جائے۔
انہوں نے شہریوں کو ہدایت دی کہ اپنی اور دوسروں کی حفاظت کے لیے ٹریفک قوانین کی پاسداری کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ میں نے پہلے ای چالان کی معافی کی ہدایت جاری کر دی ہے، مگر دوبارہ خلاف ورزی کرنے والوں کو چالان بھرنا ہوگا۔ پولیس بھی قانون سے بالاتر نہیں ہے۔
دوسری جانب آئی جی غلام نبی میمن نے بتایا کہ اگر کسی شہری کو پہلا ای چالان موصول ہوا ہے تو وہ 10 دن کے اندر متعلقہ حکام سے رابطہ کر کے معافی اور فیس کی رعایت حاصل کر سکتا ہے۔







