سرنڈر پالیسی کے تحت 72 ڈاکوؤں نے 200 سے زائد چھوٹے اور بڑے ہتھیار حکومت کے حوالے کیے، جن میں 62 جی تھری رائفل، 97 ایس ایم جیز، 48 ڈبل بیرل، 7 آر پی جی، اور بھاری ہتھیار جیسے اینٹی ٹینک آر آر-75 اور 12.7 اینٹی ایئرکرافٹ گن شامل ہیں۔

ان ڈاکوؤں کے سروں کی قیمت تین لاکھ سے چھ کروڑ روپے تک مقرر کی گئی تھی۔

شکارپور پولیس نے گڑھی تیغو سمیت متعدد کامیاب آپریشنز انجام دیے، جن میں آپریشن کوٹ شاہو، جگن، کالہورو (مڈیجی) اور بگارجی (سکھر) شامل ہیں۔ پانچ ماہ جاری رہنے والے آپریشن گڑھی تیغو کے دوران 107 مغوی بازیاب کروائے گئے تھے۔

وزیر داخلہ سندھ ضیاءالحسن لنجار اس کامیاب امن پالیسی کے نافذ میں سندھ پولیس، رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے جوانوں اور افسران کو خراج تحسین پیش کیا۔ تقریب میں انسپکٹر جنرل (آئی جی) سندھ غلام نبی میمن، ڈپٹی انسپکٹر جنرلز (ڈی آئی جیز) لاڑکانہ، سکھر، متعلقہ سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پیز) اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔

سرنڈر کرنے والوں میں بدنام زمانہ ڈاکو نثار سبزوئی کے خلاف 82 مقدمات درج تھے اور اس کے سر کی قیمت 30 لاکھ روپے مقرر تھی۔

 دیگر سرکردہ ڈاکوؤں جیسے لادو تیغانی، سوکھیو تیغانی، سونارو تیغانی، جمعو تیغانی، ملن عرف واحد علی عرف واجو تیغانی، گلزار بھورو تیغانی، غلام حسین عرف نمو تیغانی اور نور دین تیغانی کے خلاف مختلف مقدمات درج تھے اور ان کے سر کی قیمتیں تین لاکھ سے 60 لاکھ روپے تک مقرر کی گئی تھیں۔

حکومت سندھ نے اعلان کیا ہے کہ کچے کے علاقوں میں تعلیم اور صحت کی سہولتیں فراہم کی جائیں گی اور ہتھیار ڈالنے والے ڈاکوؤں کے بچوں کو ہنرمند بنا کر ملازمتیں دینے کے منصوبے پر بھی کام کیا جائے گا۔