حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف بورڈ آف پیس میں شرکت کر کے عالمی سطح پر امن کی بات کرتے ہیں، مگر عملی طور پر حکومت کی ترجیحات مختلف نظر آتی ہیں،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کھلے عام اپنے ایجنڈے کا اظہار کرتے ہیں اور یہ تاجر ذہنیت رکھنے والے لوگ انسانی جانوں کو بھی سیاسی مفادات کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ فلسطین کا تصور صرف غزہ تک محدود نہیں بلکہ مغربی کنارے سمیت پورا علاقہ اس میں شامل ہے، اسرائیل مسلسل جنگ بندی کی خلاف ورزی کر رہا ہے اور سینکڑوں افراد شہید ہو چکے ہیں، مگر عالمی برادری خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے، کسی بھی صورت پاکستان کی فوج کو غزہ نہیں بھیجا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن دونوں اسرائیل کے خلاف دوٹوک مؤقف اختیار کرنے سے گریزاں ہیں اور مسئلہ فلسطین پر مؤثر سفارت کاری نہیں کی جا رہی، ایسے معاملات پر اقوام متحدہ میں بھرپور آواز اٹھائی جانی چاہیے۔
مزید پڑھیں: حکومتی پالیسیاں عوام کے لیے مایوسی کا سبب ہیں، حافظ نعیم الرحمان
معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ چھ برس میں مہنگائی میں 31.5 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ پنجاب میں غربت میں 42 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ زراعت کے شعبے میں نمایاں کمی آئی ہے، گندم کی قیمت مقرر کرنے کے بعد حکومت اپنے فیصلے سے پیچھے ہٹ گئی، جس سے کسانوں کو شدید نقصان پہنچا۔
انہوں نے کہا کہ بجلی کے شعبے میں آئی پی پیز کے معاہدوں کے باعث عوام پر 2200 ارب روپے کا بوجھ ڈالا جا رہا ہے، مگر ان معاہدوں پر نظرثانی نہیں کی جا رہی۔ بجلی کی قیمتوں میں کمی کے بجائے سولر نظام پر قدغن لگائی جا رہی ہے۔
پی آئی اے کی نجکاری اور سرکاری اخراجات پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک قومی ادارے کو محض دس ارب روپے میں فروخت کیا گیا جبکہ حکومتی شخصیات کے لیے اربوں روپے کے طیارے خریدے گئے،یہ طرز حکمرانی عوامی مفادات کے منافی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں کارکردگی انتہائی مایوس کن ہے جبکہ پنجاب میں بھی تعلیمی صورتحال تشویشناک ہے اور لاکھوں بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکمران جماعتیں اصلاحات کے بجائے ذاتی اور خاندانی مفادات کے تحفظ میں مصروف ہیں۔
سیاسی حوالے سے انہوں نے کہا کہ ملک میں ہائبرڈ نظام ناکام ہو چکا ہے اور عوام کو بیدار ہونا ہوگا، عمران خان قومی سطح کے لیڈر ہیں اور سیاسی استحکام کے لیے سنجیدہ مکالمے کی ضرورت ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے اعلان کیا کہ عید کے بعد جماعت اسلامی بلدیاتی انتخابات کے انعقاد اور آئی پی پیز کے خلاف ملک گیر تحریک کا آغاز کرے گی،جماعت اسلامی پرامن جدوجہد پر یقین رکھتی ہے، تاہم عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے بھرپور آواز بلند کی جائے گی۔







