برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق حادثہ بدھ کی صبح دارالحکومت میڈرڈ سے جنوبی علاقے اندلس جانے والی ریلوے لائن پر پیش آیا، جہاں 2 تیز رفتار ٹرینیں آپس میں ٹکرا گئیں۔

حادثے کے بعد امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور حکام نے ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے، جبکہ میڈرڈ سے اندلس جانے والی تیز رفتار ریلوے لائن پر ٹرینوں کی آمدورفت بھی معطل کردی گئی ہے۔

علاقائی حکومت کے مطابق ایک ٹرین میں 147 جبکہ دوسری ٹرین میں 397 مسافر سوار تھے۔ حادثے کی حتمی وجہ فوری طور پر سامنے نہیں آسکی، تاہم اطلاعات کے مطابق ایک ٹرین سگنل میں خرابی کے باعث رکی ہوئی تھی، اسی دوران دوسری تیز رفتار ٹرین اس سے ٹکرا گئی، جس کے نتیجے میں متعدد بوگیاں پٹڑی سے اتر گئیں۔

حادثے کے بعد متاثرہ بوگیوں میں پھنسے مسافروں کو نکالنے اور زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنے کے لیے امدادی کارروائیاں شروع کردی گئیں۔ زخمیوں کو مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا جبکہ محفوظ رہنے والے مسافروں کو بسوں کے ذریعے جائے وقوع سے نکالا گیا۔

حادثے میں متاثرہ ایک مسافر نے بتایا کہ تصادم کے وقت شدید جھٹکا لگا اور تقریباً 10 سیکنڈ تک دھماکے جیسی آوازیں آتی رہیں۔ ایک خاتون مسافر کے مطابق ٹرین کی ایک بوگی ڈھلوان کی جانب لٹکی ہوئی تھی جبکہ ایک بوگی میں آگ بھی لگی ہوئی تھی۔

اسپین کی وزیر صحت مونیکا گارسیا نے شہریوں سے خون عطیہ کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ زخمیوں کے علاج میں مدد مل سکے۔ ہلاک ہونے والوں کے لواحقین اور متاثرہ افراد کی سہولت کے لیے خصوصی ہیلپ لائن بھی قائم کردی گئی ہے۔

حادثے کے بعد میڈرڈ، سیوداد ریئل اور اندلس کے درمیان ٹرین سروس معطل کردی گئی، جبکہ امدادی کارروائیوں میں فوج کے ایمرجنسی یونٹ، فائر فائٹرز، پولیس، ایمبولینسوں اور طبی ہیلی کاپٹروں نے حصہ لیا۔

اسپین کے وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے حادثے کے بعد اپنی تمام سرکاری مصروفیات منسوخ کردیں اور امدادی کارروائیوں پر توجہ مرکوز کی۔ انہوں نے حادثے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متاثرین اور ان کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار کیا۔

اسپین کے بادشاہ فیلیپ ششم اور ملکہ لیٹیزیا نے بھی حادثے پر افسوس کا اظہار کیا جبکہ یورپی کمیشن کی صدر ارسولا فان ڈیر لاین نے ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ سے تعزیت کی۔

حادثے کے باعث اسپین کی فٹ بال فیڈریشن نے بدھ کو شیڈول کوپا ڈیل رے کے تمام 24 میچز ملتوی کردیے، جبکہ اپوزیشن جماعت پیپلز پارٹی نے بھی اپنی انتخابی مہم کی سرگرمیاں منسوخ کردیں۔

واضح رہے کہ اسپین میں اسی ریلوے لائن پر رواں سال جنوری میں بھی 2 تیز رفتار ٹرینوں کے درمیان تصادم ہوا تھا، جس میں 46 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ جنوری کا حادثہ 2013 کے بعد اسپین میں ٹرین کا سب سے مہلک حادثہ قرار دیا گیا تھا۔

حالیہ حادثے کے بعد اسپین کے ریلوے نظام کی حفاظت، دیکھ بھال اور بنیادی ڈھانچے پر سرمایہ کاری سے متعلق سوالات ایک بار پھر سامنے آگئے ہیں۔ تاہم حکام کی جانب سے تازہ حادثے کی اصل وجہ کی حتمی تصدیق ہونا ابھی باقی ہے۔