نجی نشریاتی ادارے ڈان نیوز کے مطابق آئی ٹی چیئرمین امین الحق کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں حکومتی اراکین ذوالفقار بھٹی اور رانا عتیق نے ملک بھر میں موبائل اور انٹرنیٹ سروسز کی ناقص کارکردگی پر سخت شکایات پیش کیں۔

ذوالفقار بھٹی نے کہا کہ میرے علاقے میں نہ سگنل ہیں، نہ انٹرنیٹ، کیا ہمارے بچے نہیں ہیں؟ کیا ہم یہاں صرف بسکٹ کھانے آتے ہیں؟

انہوں نے وفاقی وزیر کے رویے پر بھی ناراضی ظاہر کی اور کہا کہ جب میں نے شکایت کی تو وزیر ہم پر ہی برہم ہو گئیں، اگر یہی صورتحال رہی تو میں اجلاس میں نہیں آؤں گا۔ انہوں نے واک آؤٹ کی کوشش بھی کی، تاہم چیئرمین امین الحق کے اصرار پر واپس بیٹھ گئے۔

وفاقی وزیر شزا فاطمہ نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں اسپیکٹرم کی کمی کی وجہ سے موبائل سروسز کے مسائل بڑھ رہے ہیں۔

 ان کا کہنا تھا کہ پورا ملک 274 میگا ہرٹس اسپیکٹرم پر چل رہا ہے، جب اسپیکٹرم ہی دستیاب نہیں تو جتنے مرضی ٹاورز لگا لیں فرق نہیں پڑے گا۔

انہوں نے بتایا کہ اسپیکٹرم سے متعلق مقدمات عدالتوں میں زیرِ سماعت ہیں جس کی وجہ سے نیلامی میں تاخیر ہو رہی ہے، تاہم حکومت دسمبر یا جنوری تک اسپیکٹرم کی نیلامی مکمل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

شزا فاطمہ نے یہ بھی بتایا کہ وزارتِ آئی ٹی ملک بھر میں اسپیشل ٹیکنالوجی پارکس اور ای روزگار سینٹرز قائم کر رہی ہے تاکہ نوجوانوں اور فری لانسرز کو سہولت فراہم کی جا سکے۔

کمیٹی کے اراکین نے مؤقف اپنایا کہ آئی ٹی میں ترقی کے تمام دعوے صرف بڑے شہروں تک محدود ہیں، جب کہ چھوٹے شہروں کے عوام اب بھی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔

چیئرمین کمیٹی امین الحق نے ملک بھر میں موبائل اور انٹرنیٹ سروسز کی ناقص صورتحال پر پی ٹی اے حکام کو آئندہ اجلاس میں طلب کرنے کی ہدایت دی۔

انہوں نے استفسار کیا کہ کیا یمن کے قریب سب میرین کیبل کا فالٹ دور کرلیا گیا ہے؟

جس پر سیکریٹری آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام نے بتایا کہ فالٹ تاحال مکمل طور پر دور نہیں ہوا، تاہم کنسورشیم فالٹ کی مرمت پر کام کر رہا ہے اور پاکستان کی انٹرنیٹ ٹریفک کو متبادل راستوں پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

اجلاس میں اسلام آباد آئی ٹی پارک منصوبے پر بھی بریفنگ دی گئی، جس کے مطابق 80 فیصد کام مکمل کر لیا گیا ہے۔

وفاقی وزیر شزا فاطمہ نے بتایا کہ منصوبے کی تکمیل کی ڈیڈ لائن 31 اکتوبر تھی، تاہم گزشتہ ڈیڑھ سال میں متعدد بار کورین پروجیکٹ ڈائریکٹر تبدیل ہوتے رہے جس سے پیش رفت متاثر ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ کورین کمپنی کے تعاون سے بن رہا ہے، اور سرمایہ کاری بھی وہی کر رہے ہیں۔ وزیراعظم نے تاخیر کی تحقیقات کا حکم دیا ہے، ہم کوشش کر رہے ہیں کہ کوئی درمیانی راستہ نکال کر منصوبہ مکمل کیا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر منصوبہ تنازع کا شکار ہوا تو اس کے اثرات دوسرے شہروں کے آئی ٹی پارکس پر بھی پڑ سکتے ہیں، تاہم حکومت کے پاس متبادل منصوبہ موجود ہے۔

آخر میں کمیٹی میں پی ٹی سی ایل کی جائیدادوں کی خرید و فروخت سے متعلق ایجنڈا زیرِ غور آیا، جسے چیئرمین کمیٹی نے ان کیمرا کر دیا۔