لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ افغانستان ہو یا انڈیا ہم کسی پر حملہ آور نہیں ہوں گے،اگر کوئی ہم پر حملہ کرے گا اس کا ادھار نہیں رکھیں گے۔اب شاید اسکور زیرو چھ نہ ہو ،اس سے زیادہ بھی ہو سکتا ہے۔

رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ افغانستان کا ہم نے ہمیشہ ساتھ دیا ہے،پر انتہائی افسوس سے  کہنا پڑ رہا ہے کہ اس طرف سے ہمشیہ تکلیف ہی ملتی رہی ہے۔

وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امورنے کہا کہ اب گڈ اور بیڈ طالبان کی تھیوری ہمیشہ کے لیے ختم ہوگئ، کسی کو انتشار اور فتنہ نہیں پھیلانے دیں گے۔مزید اپنے پیاروں اور افسروں کے جنازے نہیں اٹھا سکتے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک صوبے میں ایسا ٹولہ ہے جو ملک میں افراتفری، انارکی اور انتشار چاہتا ہے۔ (ن) لیگ کی پالیسی نہیں رہی کہ کسی بھی جماعت کے اوپر سیاسی ہو یا مذہبی ہو پابندی لگائے، بدقسمتی سے تین واقعات ہوئے اس جماعت نے جب بھی احتجاجی پروگرام دیا  تو تشدد اتنا زیادہ ہوا، ہلاکتوں پر جاکر بات رکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے وفاق کو بھیج دیا ہے وفاقی حکومت نے اس پر فیصلہ کرنا ہے۔

رانا ثنااللہ نے کہا کہ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات ہر صورت ہوں گے، وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اس کی مکمل تیاری کرلی ہے، وہ چاہتی ہیں کہ گلی محلے تک یہ نظام پہنچے اور عوام اپنا کردار ادا کریں۔

واضح رہے کہ 11 اور 12 اکتوبر کی درمیانی شب افغان طالبان نے بلااشتعال پاکستان پر فائرنگ کی تھی۔ اس کے جواب میں پاک فضائیہ نے حملے کیے۔ طالبان کی سرحدی فورسز مشرقی علاقوں میں لڑائی میں مصروف رہیں۔

مختلف افغان علاقوں کے طالبان حکام نے جھڑپوں کی تصدیق کی ہے۔ اسلام آباد نے کابل سے کہا ہے کہ کالعدم ٹی ٹی پی کو اپنی سرزمین پر پناہ دینے سے باز رہے۔ پاکستان فوج کی جوابی کارروائی میں درجنوں افغان فوجی ہلاک ہو گئے اور عسکری گروہ پسپا ہو گئے تھے۔

گزشتہ روز پاکستان اور افغان طالبان رجیم کے مابین فائر بندی میں توسیع پر اتفاق کر لیا گیا تھا،جس کے بعد جنگ بندی میں مزید 48 گھنٹے کی توسیع کر دی گئی ہے۔