اسٹیٹ بینک کے مطابق مانیٹری پالیسی کمیٹی نے شرح سود موجودہ سطح پر برقرار رکھنے کا فیصلہ 10 میں سے 7 ارکان کی اکثریت سے کیا۔

مرکزی بینک نے اپریل میں شرح سود میں 100 بیسس پوائنٹس اضافے کے بعد سے پالیسی ریٹ 11.5 فیصد پر برقرار رکھا ہوا ہے۔ یہ تقریباً تین سال میں شرح سود میں پہلا اضافہ تھا۔ اس سے قبل دسمبر 2025 میں اچانک 50 بیسس پوائنٹس کمی کی گئی تھی، جب کہ جنوری اور مارچ میں شرح سود برقرار رکھی گئی تھی۔

اپنے بیان میں مانیٹری پالیسی کمیٹی نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری طویل جنگ کی حالیہ شدت کے نتیجے میں پہلے ہی بلند عالمی اجناس کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا ہے، جب کہ سپلائی چین میں رکاوٹیں بھی برقرار ہیں۔

تاہم کمیٹی کے مطابق حالیہ ملکی معاشی اعدادوشمار مجموعی طور پر اس کی توقعات کے مطابق رہے۔ اگست میں سالانہ بنیادوں پر ہیڈ لائن مہنگائی جولائی کی 9.2 فیصد سے بڑھ کر 11.1 فیصد ہوگئی، جب کہ بنیادی مہنگائی توقعات سے معمولی کم رہی۔

ایم پی سی کے مطابق بیرونی کھاتے پر دباؤ بھی قابو میں رہا، جس میں کارکنوں کی ترسیلات زر اور مالیاتی آمد میں اضافے نے اہم کردار ادا کیا۔

دریں اثنا مالی سال 2026 کی چوتھی سہ ماہی میں سست روی کے بعد معاشی سرگرمیوں میں بتدریج بہتری آنا شروع ہوئی، جس کی عکاسی حالیہ قلیل مدتی معاشی اشاریوں سے ہوتی ہے۔

کمیٹی نے کہا کہ موجودہ مانیٹری پالیسی مؤقف درمیانی مدت میں مہنگائی کو 5 سے 7 فیصد کے ہدف کی حدود میں لانے کے لیے موزوں ہے، تاہم مستقبل کے معاشی منظرنامے سے متعلق غیر یقینی صورتحال میں اضافہ ہوا ہے، بالخصوص بگڑتی ہوئی جغرافیائی سیاسی صورتحال کے باعث۔

مانیٹری پالیسی کمیٹی نے گزشتہ اجلاس کے بعد ہونے والی اہم پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ موڈیز نے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ بڑھا کر B3 کردی اور آؤٹ لک مستحکم رکھا۔

کمیٹی کے مطابق پاکستان نے بین الاقوامی کیپٹل مارکیٹ میں کامیابی سے رسائی حاصل کرتے ہوئے یورو بانڈز کے ذریعے 3 ارب ڈالر حاصل کیے۔ زرمبادلہ کی مسلسل خریداری کے ساتھ اس پیش رفت نے اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر کو 21 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے میں مدد دی۔

کمیٹی نے مزید کہا کہ ستمبر میں کاروباری اداروں اور صارفین دونوں کی مہنگائی سے متعلق توقعات میں اضافہ ہوا، جبکہ ان کے اعتماد میں کمی آئی۔

اس کے علاوہ جون میں بڑے پیمانے کی صنعتی پیداوار میں 3.5 فیصد کمی ہوئی، جس کے بعد مالی سال 2026 میں مجموعی پیداوار میں اضافہ 5 فیصد رہا۔

ایم پی سی کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران مالیاتی استحکام بجٹ میں مقررہ ہدف سے بہتر رہا۔ مالی سال 2027 کے جولائی اور اگست میں ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں بھی ہدف کے مطابق رہیں، جبکہ اسٹیٹ بینک نے حکومت کو بجٹ میں مختص 1.4 ٹریلین روپے کے مقابلے میں 1.9 ٹریلین روپے کا منافع منتقل کیا۔

کمیٹی کے مطابق عالمی معاشی حالات میں مشکلات کے باعث مرکزی بینک زیادہ محتاط ہوگئے ہیں۔ مرکزی بینک نے کہا کہ وہ موصول ہونے والے اعدادوشمار اور مشرق وسطیٰ کی جاری صورتحال کا مسلسل قریب سے جائزہ لے رہا ہے۔

کمیٹی نے نوٹ کیا کہ ناموافق جغرافیائی سیاسی واقعات اور موسمیاتی رکاوٹوں جیسے جھٹکے زیادہ تواتر سے سامنے آ رہے ہیں اور بدستور معاشی منظرنامے کے لیے خطرات کا باعث ہیں۔

اس پس منظر میں ایم پی سی نے محتاط مانیٹری اور مالیاتی پالیسیوں کے امتزاج کو برقرار رکھنے اور سپلائی کے جھٹکوں کا سامنا کرنے کے لیے حفاظتی ذخائر مزید بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔

کمیٹی کے مطابق ساختی اصلاحات پر بروقت عملدرآمد بھی ضروری ہے، تاکہ معیشت کی لچک بہتر ہو، پیداواری صلاحیت میں اضافہ کیا جاسکے اور بلند و پائیدار معاشی نمو کو فروغ دیا جاسکے۔

27 جولائی کو ہونے والے گزشتہ اجلاس میں مرکزی بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے پاکستان کے معاشی منظرنامے میں بہتری کے آثار کے باوجود پالیسی ریٹ 11.5 فیصد پر برقرار رکھا تھا۔

اس وقت کمیٹی نے مشرق وسطیٰ میں تنازع دوبارہ شروع ہونے کے بعد بیرونی خطرات میں اضافے کو بھی پالیسی ریٹ برقرار رکھنے کی وجوہات میں شامل کیا تھا۔

کمیٹی نے اس وقت بھی کہا تھا کہ مانیٹری پالیسی کا موجودہ مؤقف درمیانی مدت کے دوران مہنگائی کو 5 سے 7 فیصد کے ہدف کی حدود میں لانے کے لیے موزوں ہے۔

اسٹیٹ بینک کے حالیہ فیصلے سے قبل متعدد تجزیہ کاروں نے بھی توقع ظاہر کی تھی کہ مرکزی بینک موجودہ پالیسی ریٹ برقرار رکھے گا، کیونکہ عالمی سطح پر تیل کی بلند قیمتوں کے باعث بڑھتے ہوئے مہنگائی کے دباؤ سے مانیٹری پالیسی میں نرمی کی گنجائش محدود ہوسکتی ہے۔