ویلش دارالحکومت کارڈف میں ہونے والی ملاقات کے بعد جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اسکاٹ لینڈ، ویلز اور شمالی آئرلینڈ کی تاریخ، شناخت اور سیاسی روایات ایک دوسرے سے مختلف ہیں، تاہم ہر قوم کو جمہوری طریقے سے اپنے عوام کی خواہشات کے مطابق اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہے۔

مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ پہلی مرتبہ اسکاٹ لینڈ، ویلز اور شمالی آئرلینڈ میں ایسی فرسٹ منسٹر قیادت موجود ہے جو برطانیہ سے آزادی کے لیے پرعزم ہے۔

اعلامیے کے مطابق ان جزائر میں سیاسی منظرنامہ تبدیل ہورہا ہے اور ویسٹ منسٹر کا وقت ختم ہونے کو ہے۔ آزادی کی حامی جماعتوں کا کہنا ہے کہ آئینی تبدیلی کا وقت آچکا ہے اور ان کی تحریکوں کو عوامی حمایت حاصل ہورہی ہے۔

تینوں جماعتوں نے واضح کیا کہ ان کے آئینی مؤقف ایک دوسرے سے مختلف ہیں اور ہر قوم اپنے طریقے اور اپنے وقت کے مطابق اپنے مستقبل کا فیصلہ کرے گی۔

یورپی یونین سے دوبارہ جڑنے کا عندیہ

مشترکہ اعلامیے میں بریگزٹ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ یورپی یونین سے برطانیہ کی علیحدگی نے معیشتوں کو نقصان پہنچایا اور عوام کے لیے مواقع محدود کیے۔

اعلامیے کے مطابق یورپ ان قوموں کا مشترکہ گھر ہے اور ان کا مستقبل یورپی یونین کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔

آزادی کی حامی جماعتوں نے یورپ کے ساتھ تعلقات دوبارہ مضبوط بنانے اور تجارت، سرمایہ کاری، ثقافت اور باہمی تعاون کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

معیشت، توانائی اور عوامی سہولت بھی ایجنڈے میں شامل

رہنماؤں کی ملاقات صرف آئینی معاملات تک محدود نہیں رہی بلکہ معیشت، توانائی، سماجی انصاف اور عوامی سہولت کے امور پر بھی تعاون بڑھانے پر زور دیا گیا۔

مشترکہ اعلامیے میں معاشی نظام میں تبدیلی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے آزادی کی حامی جماعتوں نے ویسٹ منسٹر کے موجودہ معاشی ماڈل کو تنقید کا نشانہ بنایا اور زیادہ منصفانہ اور خوشحال معیشت کی تشکیل کے عزم کا اظہار کیا۔

اعلامیے کے مطابق ایسی معاشی پالیسیاں اختیار کی جائیں گی جو اچھی ملازمتیں پیدا کریں، عدم مساوات کم کریں اور دولت و مواقع کی زیادہ منصفانہ تقسیم یقینی بنائیں۔

تینوں جماعتوں نے اپنے وسیع قابلِ تجدید توانائی کے وسائل کو استعمال میں لانے پر بھی زور دیا تاکہ خاندانوں اور کاروباروں کے توانائی اخراجات کم کیے جاسکیں۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ ان قوموں کی توانائی سے حاصل ہونے والی دولت کو عوام کی ضروریات پوری کرنے کے لیے استعمال ہونا چاہیے۔

کوئی ویسٹ منسٹر حکومت جمہوریت نہیں روک سکتی

مشترکہ اعلامیے میں دوٹوک مؤقف اختیار کیا گیا کہ ان قوموں کو حقِ خود ارادیت حاصل ہے اور کوئی بھی ویسٹ منسٹر حکومت جمہوریت کو روکنے یا عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے اصول کو کمزور کرنے کا حق نہیں رکھتی۔

تینوں جماعتوں نے عوام کے لیے معاشی اور سماجی بہتری کے مشترکہ منصوبوں پر کام کرنے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔

واضح رہے کہ اعلامیے میں تینوں قوموں کی فوری آزادی کا اعلان نہیں کیا گیا بلکہ حقِ خود ارادیت اور مستقبل میں آئینی تبدیلی کے حق کا اعادہ کیا گیا ہے۔

برطانوی حکومت کا مؤقف کیا ہے؟

اس پیش رفت کے باوجود برطانوی حکومت نے برطانیہ کے ٹوٹنے کی راہ ہموار کرنے کے مطالبات قبول نہیں کیے۔

وزیراعظم اینڈی برنہم نے اسکاٹ لینڈ کی آزادی کے نئے ریفرنڈم اور آئرلینڈ کے اتحاد کے حوالے سے محتاط مؤقف اختیار کیا ہے۔

رائٹرز کے مطابق آئرلینڈ کے معاملے پر برطانوی وزیراعظم کے دفتر نے حال ہی میں واضح کیا کہ شمالی آئرلینڈ کے اتحاد سے متعلق حکومت کا مؤقف تبدیل نہیں ہوا اور موجودہ حالات میں نئے ریفرنڈم کی ضرورت نہیں۔

دوسری جانب ویلز کے فرسٹ منسٹر رون ایپ آئیورورتھ نے زور دیا ہے کہ ویلز کو انگلینڈ کا محض ایک خطہ سمجھنے کے بجائے ایک الگ قوم کے طور پر تسلیم کیا جائے اور اسے مزید اختیارات دیے جائیں۔

اسکاٹ لینڈ میں آزادی کی بحث دوبارہ تیز

اسکاٹ لینڈ میں آزادی کا سوال پہلے ہی سیاسی بحث کا اہم موضوع ہے۔ 2014 کے ریفرنڈم میں اسکاٹش عوام نے برطانیہ میں رہنے کے حق میں ووٹ دیا تھا، تاہم اس کے بعد آزادی کے حامی دوبارہ ریفرنڈم کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔

اسکاٹش پارلیمنٹ میں مئی 2026 میں بھی آزادی کے ریفرنڈم کے حق میں قرارداد پیش کی گئی، جس میں برطانوی حکومت سے اسکاٹش پارلیمنٹ کو ریفرنڈم کرانے کے اختیارات دینے کا مطالبہ کیا گیا۔

گارڈین کے مطابق حالیہ رائے عامہ کے ایک جائزے میں اسکاٹ لینڈ میں 47 فیصد، شمالی آئرلینڈ میں 36 فیصد اور ویلز میں 32 فیصد افراد نے آزادی یا برطانیہ سے علیحدگی کے تصور کی حمایت کی۔

ٹرمپ کے بیان نے بھی بحث کو ہوا دے دی

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آئرلینڈ کے دورے کے دوران شمالی آئرلینڈ کو جمہوریہ آئرلینڈ کے ساتھ متحد کرنے کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ متحدہ آئرلینڈ دیکھنا پسند کریں گے۔

ٹرمپ نے اسے مستقبل میں ممکن قرار دیا، تاہم برطانوی حکومت نے واضح کیا کہ اس معاملے پر اس کا مؤقف تبدیل نہیں ہوا۔

واضح رہے کہ کارڈف اجلاس کو برطانیہ کے موجودہ آئینی ڈھانچے کے لیے ایک اہم سیاسی پیغام کے طور پر دیکھا جارہا ہے، تاہم اسکاٹ لینڈ، ویلز یا شمالی آئرلینڈ کی آزادی فوری طور پر عمل میں آنے کا کوئی اعلان نہیں کیا گیا۔

مشترکہ مؤقف بنیادی طور پر حقِ خود ارادیت، ممکنہ ریفرنڈمز اور مستقبل میں آئینی تبدیلی کے مطالبے پر مبنی ہے۔