شہباز شریف نے صدر ٹرمپ سمیت قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ترکی، اردن، مصر اور انڈونیشیا کی قیادتوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس کے موقع پر فلسطینی مسئلے کے حل کے لیے امریکی صدر سے ملاقات کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ ان شا اللہ پاکستان اپنے تمام شراکت داروں اور برادر ممالک کے ساتھ مل کر فلسطین میں پائیدار امن کے لیے کوششیں جاری رکھے گا۔
یاد رہے کہ گزشتہ شب حماس کی جانب سے عالمی امن منصوبے پر مثبت ردعمل کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ حماس امن کے لیے تیار ہے اور اسرائیل کو فوری طور پر غزہ پر بمباری روکنی چاہیے۔
گزشتہ ہفتے پاکستان بھی غزہ میں جنگ بندی اور امن کی کوششوں میں سرگرم رہا، اس دوران وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف عاصم منیر نے وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ سے ملاقات کی تھی۔ بعد ازاں وائٹ ہاؤس نے امن منصوبے کے نکات جاری کیے، جنہیں پاکستان نے ابتدا میں خوش آمدید کہا مگر بعض ترامیم سامنے آنے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ جب تک مسلم ممالک کی آٹھ تجاویز شامل نہیں ہوں گی، پاکستان منصوبے کو قبول نہیں کرے گا۔
خیال رہے کہ سات اکتوبر 2023 کو حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد شروع ہونے والی جنگ کو دو سال مکمل ہونے والے ہیں۔ اس دوران اب تک 66 ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق، دو لاکھ کے قریب زخمی ہو چکے ہیں جبکہ غزہ کا بیشتر حصہ ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہو چکا ہے۔ اقوام متحدہ اور عالمی ادارے اس صورت حال کو اسرائیل کی جانب سے نسل کُشی قرار دے چکے ہیں۔







