گجرات میں ممبرشپ مہم کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ ملک میں گزشتہ 79 برس سے اشرافیہ کا راج قائم ہے جس کے باعث عوام کو حقیقی حق حکمرانی حاصل نہیں ہو سکا۔

انہوں نے کہا کہ مقتدرہ کی سرپرستی میں پروان چڑھنے والی سیاسی جماعتیں ملک چلانے میں ناکام ہو چکی ہیں، جب کہ گزشتہ چار برس میں قومی قرضہ 55 ہزار ارب سے بڑھ کر 85 ہزار ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے اعلان کیا کہ عید کے بعد مہنگائی، آئی پی پیز اور موجودہ نظام کے خلاف بھرپور تحریک چلائی جائے گی۔ جماعت اسلامی ملک بھر میں 50 لاکھ ممبرز اور 50 ہزار عوامی کمیٹیوں کے قیام کا ہدف رکھتی ہے۔


حافظ نعیم الرحمان  نے کہا کہ موجودہ نظام میں امیر مزید امیر جب کہ غریب مزید غریب ہو رہا ہے۔ آئین کے مطابق تعلیم، صحت اور انصاف کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے مگر عوام آج بھی ان بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔

انہوں  نے پنجاب حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں ایک کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں جب کہ کسان بدحالی کا شکار ہے اور مافیا گندم، آٹا اور چینی کی قیمتوں سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔

مزید پڑھیں: ستھرا پنجاب میں مالی بے ضابطگیوں کی روک تھام اور گھوسٹ ملازمین کی نشاندہی افسران کی ذمہ داری ہے، مریم نواز

امیر جماعتِ اسلامی نے عدالتی نظام پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ لاکھوں مقدمات زیر التوا ہیں اور غریب کے لیے انصاف کا حصول مشکل ہو چکا ہے۔

انہوں  نے عوام خصوصاً نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ جماعت اسلامی کا ساتھ دیں اور ملک میں نظام کی تبدیلی کے لیے متحد ہو جائیں۔