نجی نشریاتی ادارے ایکسپریس نیوز کے مطابق، لاہور ہائیکورٹ میں جسٹس خالد اسحاق نے آوارہ کتوں کے حملوں اور اسپتالوں میں اینٹی ریبیز ویکسین کی عدم دستیابی کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کی۔

 سماعت کے دوران جسٹس خالد اسحاق نے ریمارکس دیے کہ جانوروں کے بھی حقوق ہیں لیکن اشرف المخلوقات کے بچوں کو سڑکوں پر کتے کاٹ رہے ہیں۔

درخواست گزار کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران 1700 سے زائد شہری کتے کے کاٹنے کے واقعات کے بعد میو اسپتال میں لائے گئے۔ عدالت نے سرکاری وکیل سے استفسار کیا کہ کیا یہ اعداد و شمار درست ہیں؟

درخواست گزار کے وکیل ایڈووکیٹ اظہر صدیق نے بتایا کہ شہر کے پوش علاقے ڈی ایچ اے میں بھی آوارہ کتوں کی تعداد بڑھ رہی ہے، جس سے شہریوں میں خوف پایا جاتا ہے۔

عدالت نے معاملے کی سنگینی دیکھتے ہوئے حکم دیا کہ لائیواسٹاک، لوکل گورنمنٹ اور محکمہ صحت مشترکہ میٹنگ منعقد کریں، مل بیٹھ کر حکمتِ عملی تیار کریں اور آئندہ سماعت پر رپورٹ جمع کروائیں۔

واضح رہے کہ درخواست گزار نے اسپتالوں میں کتوں کے کاٹنے کی ویکسین کی بروقت فراہمی یقینی بنانے کی استدعا کی ہے۔