ڈی جی آپریشنز فیصل کامران نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اِن پرتشدد مظاہروں کی وجہ سے کئ پولیس افسران زخمی ہوئے ہیں۔ اس میں ایل ڈبلیو ایم سی، واسا، ریسکیو 1122، پولیس کی گاڑیاں، پولیس کے تھانے، تمام سرکاری املاک اور جو راستے میں آئیں انہیں نقصان پہنچایا گیا ہے۔

فیصل کامران نے کہا کہ اُن کے پاس فون کالز کا ریکارڈ موجود ہے جس میں شہری یہ شکایت کر رہے ہیں کہ اس احتجاج کی آڑ میں اُن کی گاڑی چھین لی گئی، یا اُن کی گاڑی کو توڑ پھوڑ کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

انہوں نے ٹی ایل پی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ چاہے وہ 2017 ہو، 2019، 2020، 2021 یا 2022 ہو آپ نے دیکھا ہے کہ ہر بار اس جماعت کی وجہ سے عام شہری کی زندگی متاثر ہوئی۔ یہ لوگ احتجاج کی آڑ میں راستے بند کر دیتے ہیں، کنٹینرز لگا کر اپنے ارد گرد حصار بناتے ہیں۔

فیصل کامران کا کہنا تھا کہ یہ لوگ ٹائر جلا کر، شیشے توڑ کر اور املاک کو نقصان پہنچا کر اپنے ارد گرد قلعہ بناتے ہیں۔ ان تمام کارروائیوں میں نقصان عام شہری کا ہوتا ہے۔ کسی نے ہسپتال جانا ہوتا ہے، کسی نے کام پر، بچوں نے اسکول جانا ہوتا ہے۔

ڈی جی آپریشنز نے کہا کہ اس کے علاوہ پولیس تھانوں پر حملہ کیا گیا۔ شاہدرہ ٹاؤن کے اندر تمام چیزیں توڑی گئیں، تصاویر اور تمام ثبوت موجود ہیں۔ اورنج لائن اسٹیشن پر چڑھ کر فتح کا جشن منایا گیا، اسے توڑ پھوڑ کر نقصان پہنچایا گیا جیسے کوئی بہت بڑا کارنامہ انجام دیا ہو یا کوئی جنگ جیتی گئی ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک کے اندر انہوں نے ایک غیر یقینی صورتحال اور انتشار پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس سارے معاملے کو پولیس اور تمام ریاستی ادارے مل کر سنبھال رہے ہیں۔ فرنٹ لائن فورس پولیس ہوتی ہے، اندرونی سیکیورٹی کے لیے تمام ریاستی ادارے ہمارے ساتھ ہیں اور ہماری مدد کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ کیسا احتجاج ہے؟ جس نعرے اور جھنڈے کے نیچے یہ جمع ہوتے ہیں، کیا وہ نعرہ اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ آپ ایسی پرتشدد کارروائیاں کریں؟ اس نعرے کی تعلیمات ہرگز ایسی نہیں ہیں۔ پولیس اور تمام ریاستی ادارے پاکستان کے مفاد اور شہریوں کی حفاظت کے لیے اپنا کام کرتے رہیں گے۔

فیصل کامران کا کہنا تھا کہ یہ تمام معاملات اچھے طریقے سے حل ہو سکتے ہیں۔ جہاں بات چیت ممکن ہے، ہم ہر وقت حاضر ہیں۔ لیکن جہاں آپ لوگوں کو نقصان پہنچائیں گے، سرکاری املاک کو نقصان پہنچائیں گے، عام شہری کو تنگ کریں گے، راستے بند کریں گے، وہاں ریاست اس سے اچھی طرح نمٹنے کے لیے بالکل تیار ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے کئی پولیس اہلکار ابھی تک ہسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں، اس کے علاوہ کئی اہلکار لاپتا ہیں جن کا ابھی پتہ نہیں چل سکا۔ اطلاعات آ رہی ہیں کہ وہ ان کے پاس ہیں۔ انہی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر ان اہلکاروں کی تصاویر موجود ہیں، جنہیں وہ لے کر جا رہے ہیں اور زخمیوں کو بھی انہوں نے وہاں بٹھایا ہوا ہے۔

ڈی جی آپریشنز نے کہا کہ راستے میں جو تھانے آئے اُن کے شیشے توڑے گئے، شاہدرہ ٹاؤن تھانے کو مکمل طور پر وینڈلائز کیا گیا۔ اس کے اندر موجود تمام اشیاء توڑ دی گئیں، کیمرے بھی توڑ دیے گئے۔ اس کی تمام تصاویر ہمارے پاس موجود ہیں۔ اس کے علاوہ راستے میں جو سرکاری املاک تھیں، انہیں بھی نقصان پہنچایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ تین گاڑیاں ایسی ہیں جن میں سے ایک ایس ایس پی کی گاڑی جلادی گئی، جب کہ دو تین گاڑیوں کی تصاویر ان کے سوشل میڈیا پر بھی موجود ہیں اور ہمارے پاس بھی موجود ہیں۔ ان گاڑیوں میں یہ جتھے پولیس کی موبائلوں میں پھر رہے تھے۔ یہ عام آدمی کی سہولت کے لیے گاڑیاں تھیں، سرکاری املاک تھیں جن سے عوام کو فائدہ پہنچنا تھا۔

فیصل کامران نے کہا کہ کئی گاڑیاں ایسی ہیں جن میں ایل ڈبلیو ایم سی کی گاڑیاں اور "ستھرا پنجاب" کے کنٹینر شامل ہیں، جنہیں یہ اپنے ساتھ لے کر چل رہے تھے۔ ہر محکمے کی جو چیز ان کے ہاتھ آتی ہے، اسے تباہ کر دیتے ہیں۔ جہاں جہاں ان کے شرانگیزی پھیلانے والے لوگ ہیں، ہم نے انہیں گرفتار کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیس کے پاس ان کے 100 سے زیادہ افراد گرفتار ہیں۔ جس طرح یہ لاہور، بادشاہی مسجد، شیخوپورہ اور آگے جی ٹی روڈ کے راستے احتجاج کا پلان بنا رہے تھے، وہ سب ہمارے علم میں ہے۔ میرے خیال میں انہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔ یہ احتجاج دراصل ایک "نان ایشو" پر تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ لوگ گاڑیاں چھین رہے ہیں، موٹر سائیکل چھین رہے ہیں۔ شاہدرہ ٹاؤن تھانے کے اندر جو پولیس والے ڈیوٹی پر تھے، ان کی موٹر سائیکلیں باہر کھڑی تھیں، وہ بھی چھین لی گئیں۔ 18 موٹر سائیکلیں وہاں سے لے جائی گئیں۔ یہ باقاعدہ ڈکیتیوں کا ایک سلسلہ بھی ساتھ ساتھ شروع کیا گیا۔

فیصل کامران نے کہا کہ ان کو سیف سٹی کیمروں سے ٹریس کیا جا رہا ہے۔ ہم ان کے پیچھے جائیں گے اور انہیں قانون کے دائرے میں لا کر کھڑا کریں گے۔ اس مرتبہ جس طرح کا کریک ڈاؤن ہو رہا ہے، اس سے صاف ظاہر ہے کہ ریاست نے یہ راستہ واضح کر دیا ہے کہ اس طرح کی کوئی پرتشدد کارروائی اب برداشت نہیں کی جائے گی۔